شہدائے اسلام و دفاع حرمین شریفین کانفرنس اسلام آباد
مفتی عبدالوحید جلالی
مرکزی ترجمان سنی علماء کونسل پاکستان
شہدائے اسلام و دفاع حرمین شریفین کانفرنس اسلام آباد
قسط دوئم
علامہ نعمان ضیاء فاروقی مؤرخ اسلام علامہ ضیاء الرحمن فاروقی شھید کے فرزند خطیب اہلسنت علامہ نعمان ضیاء فاروقی صاحب نے بھی اس عظیم الشان شھدائے اسلام و دفاع حرمین شریفین کانفرنس میں ولولہ انگیز خطاب کیا انہوں نے شھداء کا تذکرہ کرتے ہوئے اپنے والد شھید کی شھادت کے بعد اپنے یتیمی کے دور کو بھی ذکر کیا، جس سے شرکاء اجتماع آبدیدہ ہو گئے.
علامہ عبدالخالق رحمانی سنی علماء کونسل پاکستان کے مرکزی جنرل سیکرٹری خطیب پاکستان علامہ عبدالخالق رحمانی صاحب نے بھی شھدائے اسلام کو اور بالخصوص جبل استقامت علامہ محمد اعظم طارق شھید اور علامہ مسعود الرحمن عثمانی شھید کو خوبصورت الفاظ سے خراج تحسین پیش کیا اور کامیاب جلسہ کے انعقاد پر مفتی تنویر عالم فاروقی، حافظ نصیر احمد اور مولانا عبدالرحمن معاویہ اور انکی پوری ٹیم کو مبارک باد پیش کی اور مختصر مگر نظریاتی خطاب فرمایا.
ابن امیر عزیمت علامہ مسرور نواز جھنگوی اس عظیم الشان کانفرنس سے علامہ مسرور نواز جھنگوی صاحب نے عنوان کی مناسبت سے علمی نکات پر مشتمل خطاب کرتے ہوئے شھید قائدین کو خراج تحسین پیش کیا. علامہ مسرور نواز جھنگوی کے حالیہ دنوں میں خطاب سارے ہی علمی نکات پر مشتمل ہیں، انکی خصوصیت یہ ہے کہ عنوان سے نہیں ہٹتے اور پروگرام کے عنوان پر قرآن و سنت کے دلائل سے گفتگو کرتے ہیں. قلم کاغذ والی روایت پر شاندار استدلال فرمایا جس سے سبائیت کے کالے منہ پر زور دار تھپڑ رسید ہوتا ہے. علامہ مسرور نواز جھنگوی ھماری جماعت کے بانی امام سنی انقلاب، امیر عزیمت علامہ حقنواز جھنگوی شہید رحمۃ اللہ کے فرزند ہیں اور جھنگ سے صوبائی سیٹ جیت کر ممبر صوبائی اسمبلی بھی رہ چکے ہیں. امیر عزیمت شھید کے قائم کردہ ادارہ جامعہ محمودیہ کے مہتمم ہیں اور لائق فائق مدرس بھی ہیں.
ابن جبل استقامت علامہ محمد معاویہ اعظم اس عظیم الشان شھدائے اسلام و دفاع حرمین شریفین کانفرنس سے ابن جبل استقامت علامہ محمد معاویہ اعظم صاحب نے خطاب کرتے ہوئے جبل استقامت شہزادہ پارلیمنٹ علامہ محمد اعظم طارق شھید کی دینی، سیاسی ،مذہبی ،قومی و پارلیمانی جدوجہد پر انہیں خوبصورت جملوں سے خراج تحسین پیش کیا اور اپنے خطاب میں قرآن و سنت کے دلائل سے مزین اھلسنت کا مؤقف پیش کیا، مولانا معاویہ اعظم طارق کے خطاب کے دوران وہ منظر نہایت ہی قابل دید تھا جب انہوں نے موقع کی مناسبت سے سبائیت کی وہ تاریخی روایات جو صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے خلاف ہیں اس کاغذ کو چیر پھاڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کر کے نیچے پھینکا اور کہا کہ صحابہ کرام قرآنی شخصیات ہیں اور ان مقدس ہستیوں پر بھونکنے والے سبائی تاریخ کے چیتھڑوں کو ہم ردی کی ٹوکری میں پھینکتے ہیں. یہ منظر نامہ ایسا تھا کہ شرکاء اجتماع اپنے جذبات قابو میں نہیں رکھ سکے اور مجمع میں نعرے بازی شروع ہو گئی. مولانا معاویہ اعظم صاحب نے اھلسنت کے اور اپنے والد شھید کے کردار کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ ھم رافضیت اور ناصبیت دونوں کے خلاف ہیں، ہمارا کردار اس پر شاھد ہے. اس کانفرنس سے مولانا معاویہ اعظم صاحب کے خطاب کے بعد یقیناً جماعت پر الزامات کی بوچھاڑ کرنے والی برساتی مینڈکوں کے ایوانوں میں زلزلہ برپا ہوا ہے. مولانا محمد معاویہ اعظم ہماری جماعت کے جرنیل ہمارے مشفق و مربی جبل استقامت علامہ محمد اعظم طارق شھید کے فرزند ہیں اور جھنگ سے صوبائی اسمبلی کا الیکشن جیت کر پنجاب اسمبلی کے ممبر اور راہ حق پارٹی کے پنجاب اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر رہ چکے ہیں.
انٹرویو کے لیئے مفتی سیف الرحمن عباسی صاحب چیئرمین اھلسنت ویلفیئر ٹرسٹ نے بلوا لیا، اسی جلسے کے دوران مفتی سیف الرحمن عباسی صاحب کی ترتیب کے مطابق میں نے ،،،،، الحریہ،،، چینل کو انٹرویو دیا اور اسٹیج پر ایک ایسے درویش صفت انسان سے ملاقات ہوئی جو بظاہر تو سادہ طبیعت کے مالک ہیں مگر علم سے سرشار ہیں اور ٹاپ کے مناظر ہیں میری مراد علامہ خلیل الرحمن حیدری صاحب، مختصر ملاقات ہوئی فیصل آباد سے تشریف لائے تھے ،بلا مبالغہ آرائی کے سبائیت کے رد میں کمال ہنر کے مالک ہیں.
مفتی تنویر عالم فاروقی وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے ہاکی گراونڈ میں ہونے والے اس کامیاب ترین جلسہ کے منتظم اعلیٰ مفتی تنویر عالم فاروقی صاحب نے اپنے خطاب میں شھداء اسلام کو خراج تحسین پیش کرنے کے ساتھ ساتھ جملہ مہمانوں کا شکریہ ادا کیا ،اپنے ساتھ چلنے والی جماعت کے ذمہ داران کی پوری ٹیم اور راولپنڈی ڈویژن میں شامل اضلاع کے ذمہ داران کا بہترین کارکردگی پر شکریہ ادا کیا. مرکزی شعبہ نشر و اشاعت سنی علماء کونسل پاکستان کی طرف سے جاری کردہ قراردادیں بھی پیش کیں. مفتی تنویر عالم فاروقی صاحب کو سنی علماء کونسل پاکستان کے مرکزی ڈپٹی جنرل سیکرٹری علامہ مسعود الرحمن عثمانی شھید کی شھادت کے موقع پر راولپنڈی ڈویژن کا نگران بنایا گیا تھا، انہوں نے نہایت حکمت و تدبر سے پورے ڈویژن میں جماعتی امور کو اتحاد و اتفاق سے چلایا ہے اور نظم و ضبط کی بہترین مثال قائم کی ہے، راولپنڈی کے متعلقہ کسی بھی مسئلے پر انکی خدمت میں ہم نے کوئی ریکویسٹ کی ہو تو انہوں نے جواباً کبھی مایوس نہیں کیا بلکہ اپنا کام سمجھ کر کیا ہے اللہ تعالیٰ انکی حفاظت فرمائے آمین. عثمانی شھید کے بعد راولپنڈی ڈویژن میں مفتی صاحب نے انکے مشن کو بڑھانے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے جس پر ہم انہیں خراج تحسین پیش کرتے ہیں.
علامہ غازی اورنگزیب فاروقی صاحب سنی علماء کونسل پاکستان کے مرکزی صدر خطابت کی دنیا کے بادشاہ علامہ غازی اورنگزیب فاروقی صاحب نے شھداء اسلام اور بالخصوص جبل استقامت علامہ محمد اعظم طارق شھید اور علامہ مسعود الرحمن عثمانی شھید کو خراج تحسین پیش کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے مخصوص انداز سے سبائیت ،ناصبیت کا بھر پور رد کیا اور اکابرین اھلسنت پر بھی اپنے اعتماد کو بھی واضح کیا، علامہ اورنگزیب فاروقی صاحب نے اپنے خطاب میں یہ واضح کیا کہ ہم جب بھی گرے خود ہی اپنے سہارے اٹھے ہیں، ہمارے قافلے سے زیادہ سنجیدہ اس دور میں اور کون ہو سکتا ہے ،انہوں نے اپنے خطاب میں اسٹیج پر بیٹھے شہزادوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ جھنگوی و فاروقی و اعظم طارق شھید ہونے کے باوجود اسٹیج پر موجود ہیں بلکہ جوان ہو کر موجود ہیں جھنگوی شہید کی شکل میں علامہ مسرور، فاروقی شھید کی شکل میں علامہ نعمان اور اعظم طارق شھید کی شکل میں علامہ محمد معاویہ اعظم موجود ہیں، اس سے زیادہ کیا سنجیدگی ہو سکتی ہے کہ شھداء کے بیٹے اپنے والد کا خون دیکھنے کے باوجود یتیمی کا دور دیکھ کر بھی پیچھے نہیں ہٹے مشن نہیں چھوڑا. علامہ غازی اورنگزیب فاروقی صاحب نے اپنے خطاب میں قائد اھلسنت علامہ محمد احمد لدھیانوی صاحب کو سلام عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہم سب آپ کو سلوٹ کرتے ہیں کہ آپ نے اھلسنت کی قوت کو حکمت و تدبر سے جمع کر دیا ہے. علامہ اورنگزیب فاروقی صاحب کے خطابات میں درد ہوتا ہے ،میں نے جہاں تک محسوس کیا ہے کہ آپ کے خطاب پہلے سے تیار شدہ نہیں ہوتے بلکہ الہامی گفتگو کرتے ہیں، آپ کے عمل و کردار سے خانقاہی تربیت کے اثرات دور سے نظر آتے ہیں.
قائد اھلسنت سفیر امن علامہ محمد احمد لدھیانوی صاحب کا خطاب قائد اھلسنت سفیر امن علامہ محمد احمد لدھیانوی صاحب سربراہ سنی علماء کونسل پاکستان نے اس عظیم الشان فقید المثال شھدائے اسلام و دفاع حرمین شریفین کانفرنس سے بحثیت مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے شھداء قائدین و کارکنان کو خراج تحسین پیش کیا اور جماعت کی پالیسی بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ ھماری جدوجہد آئینی و قانونی ہے، پرامن راہوں پر چلتے ہوئے ہم منزل کی جانب گامزن ہیں، معاہدہ مکہ پر اپنی حکومت اور مسلح افواج پاکستان کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں، حوثی باغیوں کے سعودی عرب پر حملوں کی شدید مذمت کرتے ہیں اور حرمین شریفین کے دفاع کے لیئے اپنی فوج کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں. قائد اھلسنت نے اپنے خطاب میں تحفظ ناموس صحابہ و اھلبیت بل پر قانون سازی کا بھر پور مطالبہ کیا. قائد اھلسنت علامہ محمد احمد لدھیانوی صاحب حفظہ اللہ نے اپنے خطاب میں اس امر کا تذکرہ بھی کیا کہ جبل استقامت علامہ محمد اعظم طارق شھید کی شھادت کے بعد انکی جانشینی کے لیئے انکا انتخاب کیسے عمل میں آیا اور امام اھلسنت علامہ علی شیر حیدری شھید رحمہ اللہ نے انکے بارے میں کیا دعا فرمائی، قائد اھلسنت علامہ محمد احمد لدھیانوی صاحب حفظہ اللہ نے حالیہ دنوں دورہ بنگلہ دیش و ملائشیاء کے حالات بھی قوم کے سامنے رکھے.
مولانا عبدالرحمن معاویہ نے آخری خطباء کو خطابات کی خود دعوت دی ،انتظامیہ کو ڈیل کرنے سے لے کر مہمانوں کی دیکھ بحال تک کے معاملات کو خوش اسلوبی سے چیک کیا. ....جاری ہے.... فقط آپ کا بھائی مفتی عبدالوحید جلالی مرکزی ترجمان سنی علماء کونسل پاکستان
کانفرنس کی بقیہ روئیداد و کانفرنس کی خصوصیات اور کانفرنس پر ہونے والے اعتراضات کا جواب ان شاء اللہ کالم کی دوسری قسط میں آئے گا. قارئین ہمراہ رہیں.
فقط آپ کا بھائی مفتی عبدالوحیدجلالی مرکزی ترجمان سنی علماء کونسل پاکستان
مفتی عبدالوحید جلالی
مرکزی ترجمان سنی علماء کونسل پاکستان