![]() |
| مفتی عبدالوحید جلالی - مرکزی ترجمان سنی علماء کونسل پاکستان |
ہم تمہارے تم ہمارے ہو گئے
جلالی بابا کے قلم سے
مشرق وسطیٰ میں گذشتہ کئی ہفتوں سے عالمی قوتوں کی لڑائی نے امت مسلمہ کو بے چین کر کے رکھا ہوا تھا. پاکستان کے مصالحانہ کردار کی وجہ سے جنگ بندی عمل میں آئی جس پر یقیناً ہمارے ملک کا مورال عالمی سطح پر بلند ہوا اس پر ہماری جماعت سمیت محب وطن پاکستانی جماعتوں کی لیڈر شپ نے فیلڈ مارشل عاصم منیر صاحب سمیت ملکی قیادت کو سلام عقیدت پیش کیا کیونکہ چند سال قبل انڈیا نے مذموم کوشش کی کہ وہ پاکستان کو بلیک لسٹ کرائے اور وہ اس خوش فہمی میں مبتلاء بھی تھا کہ وہ اپنی اس ناپاک کوشش میں کامیاب ہو جائے گا لیکن جسے رب رکھے اسے کون چکھے.
اللہ تعالیٰ کی مدد و نصرت کے ساتھ 2025ء میں پاکستان کی مسلح افواج نے انڈیا کے بزدلانہ حملے کے جواب میں جب آپریشن بنیان مرصوص کیا تو دشمن کے چھکے چھڑا کر رکھ دیئے. پاکستانی مسلح افواج کے اس دلیرانہ اقدام نے جہاں ملک کے شہریوں کے قلوب میں اپنی عقیدت میں مذید اضافہ کیا وہاں بین الاقوامی سطح پر اپنی عسکری ۔قوت کا لوہا منوایا
ایران نے عرب ممالک کی سویلین آبادی پر پانچ ہزار سے زائد حملے کیئے آخری حملہ جب ایران نے سعودی عرب پر کیا تو پاکستان نے خبردار کیا کہ اب اگر حرمین شریفین پر کوئی جارحیت کا مظاہرہ کیا گیا تو پاک سعودیہ دفاعی معاہدہ کے تحت ہم اسکا منہ توڑ جواب دیں گے. جسکے نتیجہ میں رافضی افواج کو اسکے بعد حملہ کی ہمت نہ ہوئی۔
پاکستان نے جنگ بندی کرا کے مشرق وسطیٰ میں مستقل اور پائیدار امن کے لیئے اسلام آباد میں مذاکرات کا اہتمام کیا اور ثالثی کا کامیاب کردار ادا کیا. یقیناً ملکی قیادت کی کامیاب کوششوں کے نتیجہ میں وطن عزیز پاکستان کو مرکزیت حاصل ہوئی جسکا اعتراف ہر خاص و عام کو ہے،اور اس پر پاکستانی قیادت مبارک باد کی مستحق ہے. لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایران کہ جسکا دعویٰ تھا کہ وہ امت مسلمہ کی جنگ لڑ رہا ہے مسلم ممالک پر حملوں کے بعد اسکا دعویٰ کہاں گیا؟ جبکہ حقیقت حال یہ ہے کہ اس جنگی صورتحال میں عرب ممالک باوجود مذہب و عقیدے کے شدید ترین اختلاف کے کسی ایک مقام پر بھی امریکہ کے ہاتھوں استعمال نہیں ہوئے جبکہ ایران کا ماضی اس بات پر صرف شاہد ہی نہیں بلکہ چیخ چیخ کر پکار رہا ہے کہ امریکہ نے جب بھی اہلسنت ممالک پر لشکر کشی کی ہے ایران نے امریکہ سے ملکر مسلمانوں کی پیٹھ میں خجر کا وار کیا ہے اور امریکہ کی بھرپور ٹاؤٹی کی ھے.
اگر ہمارے سادہ لوح مسلمانوں کے حافظے کمزور ہیں تو ماضی میں زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں ہے صرف ،افغانستان و عراق پر حملوں کے وقت ہی ایران کا منافقانہ کردار دیکھ لیجیے
پاکستان میں موجود سادہ اہلسنت جو کل تک ہمیں یہ طعنہ دیتے تھے کہ ایران فلسطین کی وجہ سے یہ جنگ لڑ رہا ہے اور آپ چھوٹے چھوٹے اختلافات کی وجہ سے ایران کے خلاف ہو.
پہلی بات ایران کی موجودہ فاشسٹ حکومت سے اہلسنت کے چھوٹے اور فروعی اختلافات نہیں ہیں بلکہ اصولی اختلافات ہیں اور ایران کے اندر خمینی انقلاب کے بعد ایرانی حکومت نے ہر دور میں مسلم ممالک کی پیٹھ میں چھرا گھونپا ھے اور ایران اسلامی دنیا میں اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کے لیئے سرگرم عمل رہا ہے.
دوسری بات ایران اگر غزہ کے مسلمانوں کی آزادی کی جنگ لڑ رہا تھا تو اس نے تو امن مذاکرات میں غزہ کے حوالے سے تو کوئی شرط نہیں رکھی. غزہ کے مظلوم مسلمان تو اپنے درد کے ساتھ اسی طرح موجود ہیں. موجودہ جنگ جو ذاتی مفاد کی تھی امن مذاکرات میں تو امریکہ و ایران نے ایک دوسرے کو گلے لگا کر پھر کہہ دیا کہ ہم تمہارے تم ہمارے ہو گئے
افغانیوں نے امریکہ کے ساتھ مستقل لڑائی لڑی اور امریکہ کو اپنے خطے سے مار بھگایا. افغانی نہتے تھے انکے پاس تو امریکہ کے فضائی حملوں کا کوئی توڑ موجود نہیں تھا امریکہ افغانستان کی سرزمین پر ایرانی پراکسی شمالی اتحاد کے ذریعے قابض ہوا تھا لیکن نہتے افغانیوں نے گوریلا جنگ لڑی اور قطر میں ہونے والے مذاکرات میں کسی موڑ پر یہ نہیں کہا کہ ہم تمہارے تم ہمارے ہو گئے بلکہ ایک ہی بات رکھی کہ افغانستان اسلامی سرزمین ہے اور ہماری سر زمین سے نکل جاؤ اور بالآخر امریکہ کو افغانستان سے نکلنا پڑا.
ایران آبنائے ہرمز کے معاملے پر بھی ٹھس ہو گیا. ہم کہتے تھے کہ لوگو ہماری مان لو یہ اسلام کی جنگ نہیں ہےاور فلسطین کے جنگ نہیں ہے. مزے کی بات کہ ایران نے کسی مقام پر فلسطینیوں کے لیئے دعویٰ بھی نہیں کیا لیکن پاکستان میں موجود رافضی اور رافضیت سے متاثر لوگ مسلسل یہ دعویٰ کر کے سادہ لوح لوگوں کو گمراہ کرنے کی ناپاک کوشش میں مصروف عمل رہے. ہماری قیادت اور نامور سنی راہنماؤں کے کارٹون بنا کر سوشل میڈیا پر اسرائیلی و امریکی ایجنٹ ہونے کے ناپاک الزامات لگانے کی ناکام کوششوں میں مصروف رہے. لیکن ہماری قیادت کی دور اندیشی کو سلام کہ ہمارا دعویٰ سچ ثابت ہو گیا ہے اور ٹرمپ کے موجودہ بیانات سے صاف نظر آرہا ہے کہ بیگ ڈور گلے مل کر دونوں آپس میں کہہ چکے ہیں کہ ہم تمھارے تم ھمارے ہو گئے
اپنی جماعت کے سوشل میڈیا پر کام کرنے والے دوستوں کو مبارک باد دیتا ہوں کہ جب سب ایک طرف ہو گئے تھے تم نے اپنا بیانیئے میں کمزوری نہیں آنے دی گالیاں برداشت کر کے طعنے سہہ کر بھی تم حق بات سے باز نہ آئے اور سوشل میڈیا پر دشمن کے تابڑ توڑ حملوں کا جہاں بھرپور جواب دیا وہاں اپنی قیادت اور جماعت کے بیانیہ کا بھی بھرپور دفاع کیا. ھمارے خطباء کے ساتھ جگہ جگہ اس عنوان پر پنگے ہوئے لیکن حق بات سے باز نہ آئے اور ایران کی شیطنت کو جگہ جگہ بیان کرنے پر اپنی جماعت کے خطباء اور ذمہ داران و کارکنان کو دل کی اتھاہ گہرائیوں سے مبارک باد پیش کرتا ہوں. یاد رھے کہ ہم کبھی بھی ایران و اسرائیل و امریکہ کو یہ نہیں کہہ سکتے کہ ہم تمہارے تم ہمارے ہو گئے کیوں کہ ہماری نظر میں یہ تینوں ظالم اور انسانیت کے دشمن ہیں. ان شاء اللہ ایران کا حرمین شریفین پر قبضہ کا خواب کبھی بھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوگا. جب تک جسم میں جان باقی ہے ایران کے گمراہ کن و اسلام دشمن افکار و عزائم کے خلاف جدوجہد کرتے رہیں گے۔
Also Read
