کیا عرب امریکہ کے حامی ہیں؟
اور ایران واقعی امریکہ کا مخالف ہے؟ یہ کیسے مان لیا جائے؟
مفتی عبدالوحید جلالی، مرکزی ترجمان سنی علماء کونسل پاکستان
حیرت کی بات یہ ہے کہ ہمارے بعض اہلِ سنت خواص و عوام بھائیوں کا یا تو حافظہ کمزور ہے یا نہایت سادہ ہیں کہ ماضی قریب کی باتیں بھی یا تو جلدی بھول جاتے ہیں یا پھر سادگی میں ظاہری بیانیے پر جلد ہی بھروسہ کر لیتے ہیں۔ حالیہ مشرقِ وسطیٰ کے جنگی حالات میں چونکہ اسرائیل و امریکہ سامنے ہیں، اس لیے ہماری سادہ لوح عوام ایران سے ہمدردی کرنا شاید اپنا مذہبی فریضہ سمجھ بیٹھی ہے۔
حالانکہ صورتحال یہاں مختلف ہے۔ مجھے گزشتہ دنوں روزنامہ سماج نیوز دہلی کے اخبار میں ابوالکلام آزاد اسلامک سینٹر کے صدر مولانا محمد رحمانی کا ایک مضمون پڑھنے کو ملا۔
مولانا محمد رحمانی لکھتے ہیں کہ 3 اپریل 2026ء تک کے جنگی پس منظر میں عالمی غیر جانبدار جنگی سروے رپورٹ کے مطابق ایران نے اسرائیل پر ساڑھے آٹھ سو میزائل حملے کیے ہیں، جبکہ عرب ممالک پر ایران نے پانچ ہزار سے زائد حملے کیے ہیں۔ ایرانیوں کا پروپیگنڈا یہ ہے کہ ہم نے ان جگہوں کو نشانہ بنایا ہے جہاں امریکن اڈے ہیں، جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ یہ سارے حملے عربوں کی سویلین آبادی اور ان کی سرکاری تنصیبات پر کیے گئے ہیں۔ اور ایران کے اس دعوے کا رد اس بات سے بھی ہوتا ہے کہ اگر امریکن اڈوں کو ہی نشانہ بنانا مقصود ہوتا تو ایران کے بالکل پڑوس پر عراق میں امریکہ موجود ہے، اس وقت تک عراق پر تو ایران نے کوئی حملہ نہیں کیا۔ یہاں سے معلوم ہوتا ہے کہ ایران توسیع پسندانہ عزائم رکھتا ہے اور اس کا نشانہ عرب ہیں۔
ایران کے توسیع پسندانہ عزائم کیا ہیں؟ یہ سمجھنے کی ضرورت ہے۔
یاد رکھیے! مشرقِ وسطیٰ میں بنیادی طور پر تین فریق ہیں:
نمبر 1: پہلا فریق اسرائیل ہے، جو گریٹر اسرائیل چاہتا ہے اور اس ناپاک منصوبے کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے کے لیے وہ امریکہ کا سہارا لیے ہوئے ہے۔
نمبر 2: دوسرا فریق ایران ہے، جو دولتِ فاطمی کے نفاذ کو دوبارہ قائم کرنا چاہتا ہے۔ اور دولتِ فاطمی کی تاریخ کو اگر دیکھا جائے تو اس دور میں اسماعیلی شیعہ پر مشتمل تھی، لیکن ایران جس کے لیے کوشاں ہے وہ شیعہ اثناء عشری پر مبنی ہے۔ ایران اپنے اس منصوبے کی راہ میں عربوں کو رکاوٹ سمجھتا ہے، اس لیے وہ عربوں کو کمزور کرنے کے درپے ہے۔ ایران کے یہی توسیع پسندانہ عزائم ہیں، جن کی طرف پاکستان کی سیاست میں بزرگ شخصیت حضرت مولانا فضل الرحمن صاحب نے بھی سعودیہ پر ایران کے میزائل حملے کے ردِعمل میں اشارہ کیا تھا۔ ایرانی مصنفین کی کتب میں بھی حرمین شریفین پر قبضے کے حوالہ جات موجود ہیں۔ اہلِ سنت اگر اسی طرح خوابِ غفلت میں پڑے رہے، ظاہری خوبصورت بیانیے کو پروموٹ کرتے رہے، اور اگر اللہ نہ کرے کہ ایران اپنے منصوبے میں کامیاب ہو گیا، تو اہلِ سنت عوام کے لیے اس سے بڑی بدبختی اور کیا ہو سکتی ہے۔ اسی کی طرف قائد ملت اسلامیہ، عظیم مفکر و مدبر، علمی شخصیت امام اہلِ سنت علامہ علی شیر حیدری شہید رحمہ اللہ نے اشارہ فرمایا تھا کہ ایک وقت میں ایران کو ہیرو بنا کر پیش کیا جائے گا اور ان کے مقابلے میں عربوں کو زیرو۔
نمبر 3: تیسرا فریق عرب ہیں۔ عرب حکومتوں اور شہنشاہت سے آپ کا اختلاف ہو سکتا ہے، مگر اس سے کسی مسلمان کو اختلاف نہیں کہ حرمین شریفین کی وجہ سے سعودی عرب امتِ مسلمہ کا مرکز ہے، اور اسلامی مرکز کا تحفظ و دفاع ہر مسلمان کا فریضہ ہے۔ ایران کی عربوں کے حوالے سے موجودہ روش اور ماضی قریب میں حوثی باغیوں کی پشت پناہی اور حرمین شریفین کے خلاف سازشیں اس امر کی کھلی شہادت ہیں کہ وہ حرمین شریفین، امتِ مسلمہ کے مرکز پر کنٹرول حاصل کرنا چاہتا ہے۔
لیکن اسلامی مرکز سعودی عرب کے صبر و حوصلے کو داد دینا بنتی ہے کہ انہوں نے موجودہ صورتحال میں جس تدبر کا مظاہرہ کیا، وہ اسلامی تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا جائے گا۔
اگر عرب امریکی ٹینکوں پر سوار ہو کر تہران میں داخل ہو جاتے...
کیا ہوتا اگر عرب امریکی ٹینکوں پر سوار ہو کر تہران پر دھاوا بول دیتے، بالکل اسی طرح جیسے شیعوں نے امریکی ٹینکوں پر سوار ہو کر بغداد پر حملہ کیا تھا؟ یہ بات صرف اس لیے کہ آپ کو اندازہ ہو سکے کہ اہلِ سنت اور اہلِ تشیع کے درمیان فرق کتنا بڑا ہے۔
امریکہ کو اس وقت ایران پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے جس چیز کی کمی ہے، وہ زمینی افواج ہیں۔ امریکہ کو شیعہ مخالف فریقوں میں سے ایک بھی ایسا فریق نہیں ملا جو اس "مشن" کو قبول کرنے کے لیے تیار ہو، جبکہ اس کے برعکس جب امریکہ کو عراق کی حکومت گرانے کے لیے زمینی افواج کی ضرورت پڑی، تو شیعہ اس مشن کے لیے رضاکارانہ طور پر سامنے آئے اور ہر طرف سے امڈ پڑے۔ ان کے بڑے، چھوٹے اور ان کی مذہبی قیادتیں (مرجعیت) صفِ اول میں شامل تھیں۔
آپ اس دور کے رہنماؤں جیسے طارق الہاشمی، ایاد علاوی، فائق الشیخ علی اور دیگر کے بیانات کی طرف رجوع کریں اور اس ہولناک تفصیل کو دیکھیں کہ کس سطح کی مخبری، پستی اور ارزانی کا مظاہرہ شیعوں نے پال بریمر کے سامنے کیا۔ خود پال بریمر کی یادداشتیں اور بیانات پڑھیں، آپ اس "تخادم" بلکہ اس مکمل "امریکی-شیعہ ادغام" کو دیکھ کر دنگ رہ جائیں گے جو عراق پر قبضے کے بعد وقوع پذیر ہوا۔
اس مشترکہ آپریشن روم کے بارے میں پڑھیں جو امریکی افواج اور شیعہ رہنماؤں کے درمیان فلوجہ اور عراق کے دیگر علاقوں میں مزاحمت کو ختم کرنے کے لیے بنایا گیا تھا۔ دیکھیں کہ کس طرح شیعہ فورسز ہر جگہ سے مزاحمت کاروں کا پیچھا کرتی تھیں، انہیں پکڑ کر امریکی انٹیلی جنس کے حوالے کرتی تھیں، اور پھر جب سی آئی اے ان سے مطلوبہ معلومات حاصل کر لیتی، تو یہ شیعہ فورسز انہیں واپس لے کر قتل کر دیتی تھیں۔ یہ تاریخی حقائق ہیں جنہیں جھٹلایا نہیں جا سکتا۔
اس صورت حال میں کیا یہ کہنا درست ہو سکتا ہے کہ ایران امریکہ کے خلاف ہے اور عرب امریکن نواز ہیں؟
ذرا تصور کریں کہ اگر ایران کے اہلِ سنت یہ بیان جاری کر دیتے کہ امریکی غاصب کے خلاف ہتھیار اٹھانا جائز نہیں! اس کے برعکس شیعہ مرجع علی سیستانی کا 2003ء میں عراق پر قبضے کے دوران جاری ہونے والا وہ فتویٰ یاد کریں جس میں اس نے امریکہ کے خلاف مسلح مزاحمت کو حرام قرار دیا تھا۔
کربلا کا درس دینے والا ایران کیا اپنی ماضی قریب و بعید کی تاریخ کو نہیں دیکھتا کہ اس کا ماضی غداری، دھوکہ دہی اور امریکہ سے وفاداری و صیہونی مخبری سے مرکب ہے؟
اور طعنہ تم عربوں کو یہ دیتے ہو کہ یہ امریکہ کے غلام ہیں، حالانکہ انہوں نے تمہارے پانچ ہزار میزائل حملوں پر سوائے صبر کے اور کچھ نہیں کیا اور جواب میں تمہاری طرف غلیل کا چھوٹا پتھر بھی نہیں مارا، کیونکہ تمہیں آبنائے ہرمز کے ٹیکس کے تنازع پر امریکہ سے پنگا پڑا ہوا ہے۔
ایران کی شیطنت کیا امتِ مسلمہ سے پوشیدہ ہے کہ 1979ء میں خمینی انقلاب کے بعد مسلم دنیا میں جو اس نے فساد فی الارض برپا کر رکھا ہے؟ ہم پاکستان میں ایرانی وظیفے پر پلنے والی اس ذریت کو کبھی نہیں بھول سکتے اور نہ معاف کر سکتے ہیں جنہوں نے پاسدارانِ انقلاب ایران کے دیے گئے اہداف کے مطابق پاکستان میں اہلِ سنت کے نامور علماء، دانشوروں، وکلاء، نوجوانوں اور قائدین کے خون سے ہولی کھیلی۔
یہ وہی ایران ہے جس کے پالتو کتے بشار الاسد نے شام میں لاکھوں اہلِ سنت کو ذبح کیا۔
افغانستان پر کسی اسلامی ملک نے حملہ نہیں کیا تھا بلکہ امریکہ نے حملہ کیا تھا، اور شمالی اتحاد جو ایرانی پراکسی تھے، وہ زمینی فوج کے طور پر امریکہ کے کام آئے اور افغانستان سے ملا عمر کی حکومت کو ختم کرایا۔
آج ایران قبلۂ اول کی آزادی کا نعرہ لگا کر سادہ لوح مسلمانوں کو گمراہ کر رہا ہے، جبکہ قبلۂ اول کے پہلے فاتح امیر المؤمنین سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے قاتل کو ہیرو بنا کر پیش کرنے والا یہی ایران ہے۔
قائد اہلِ سنت، سفیر امن علامہ محمد احمد لدھیانوی صاحب حفظہ اللہ کی سیاسی بصیرت کو سلام پیش نہ کرنا بددیانتی ہوگی کہ انہوں نے بروقت فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر صاحب کے کردار کو سراہا اور ملک بھر میں تحفظ حرمین شریفین و پاکستان زندہ باد ریلیوں کا اعلان کیا، جس کے نتیجے میں 10 اپریل کو کراچی سے خیبر اور گلگت بلتستان تک پاکستان زندہ باد کے نعروں سے پورا ملک گونج اٹھا۔ یہ نعرے علامہ لدھیانوی صاحب نے ویسے ہی نہیں لگوائے بلکہ اس میں بڑا راز ہے۔
وہ راز کیا ہے؟
وہ راز یہ ہے کہ ہماری مسلح افواج نے بیک وقت تین بڑے ناپاک منصوبے ناکام بنا دیے ہیں: نمبر 1 انڈیا کا اکھنڈ بھارت کا منصوبہ، نمبر 2 اسرائیل کا گریٹر اسرائیل کا منصوبہ، نمبر 3 ایران کا توسیع پسندانہ منصوبہ۔ مسلح افواج اور حکومت پاکستان نے حرمین شریفین کے دفاع کا معاہدہ کر کے ایران اور اسرائیل دونوں کو رونے اور پیٹنے پر مجبور کر دیا ہے۔ اس اعزاز میں قائد اہلِ سنت علامہ محمد احمد لدھیانوی صاحب حفظہ اللہ نے پورے ملک میں پاکستان زندہ باد، پاک و سعودیہ دوستی زندہ باد کے نعرے لگوا دیے ہیں۔
مضمون کی طوالت کے پیش نظر ایران کے بارے میں چند مثالیں دی ہیں۔ اگر تفصیل کی طرف جائیں تو روافض کا ماضی یہود و نصاریٰ کی وفاداری سے بھرا پڑا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین
Also Read
