قائد اھلسنت، سفیر امن علامہ محمد احمد لدھیانوی حفظہ اللہ سے تازہ یادگار انٹرویو
مفتی عبدالوحید جلالی مرکزی ترجمان سنی علماء کونسل پاکستان.
علامہ محمد احمد لدھیانوی وطن عزیز پاکستان کے معتبر و معروف عالم دین و مذہبی لیڈر ہیں. ملک کے سیاسی و مذہبی حلقوں میں کافی مؤثر ہیں ،علامہ محمد احمد لدھیانوی کی پرامن و عدم تشدد پر مبنی تنظیمی پالیسی کی وجہ سے ملک کی نامور سیاسی و مذہبی شخصیات علامہ لدھیانوی صاحب کے اسٹیج کی زینت بنتے ہیں، اس سال اور گذشتہ سال قلعہ کہنہ قاسم باغ اسٹیڈیم ملتان کے تاریخی جلسوں سمیت ملک کے دیگر علاقوں میں ہونے والے بڑے پروگرامات میں علامہ محمد احمد لدھیانوی حفظہ اللہ کی دعوت پر مسلک اہلحدیث کے نامور عالم دین سینیٹر حافظ عبد الکریم ،علامہ ابتسام الہی ظہیر، مسلک بریلوی کے نامور راہنما علامہ حامد سعید کاظمی، خانقاہ چورا شریف کے گدی نشین علامہ پیر سعادت علی شاہ چورا شریف، وزیر حکومت آزاد کشمیر جناب مولانا پیر مظہر سعید شاہ ، جمعیت علمائے اسلام کے راہنما مفتی حبیب الرحمن درخواستی ، جنرل ضیاء الحق شھید کے فرزند جناب اعجاز الحق ، جنرل ریٹائرڈ حمید گل مرحوم کے فرزند جناب عبداللہ گل ، سابق وزیراعظم آزاد کشمیر جناب سردار عتیق احمد خان اور دیگر وکلاء و تاجر راہنما آپ کے اسٹیجوں کی زینت بنے اور ماضی قریب میں جب دفاع پاکستان کونسل بنی تھی تو اسوقت جنرل ریٹائرڈ حمید گل مرحوم، جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا سمیع الحق شھید، مولانا حامد الحق حقانی شھید ،ڈاکٹر عبدالقدیر خان سمیت قومی لیڈر شپ نے علامہ محمد احمد لدھیانوی حفظہ اللہ کی پرامن پالیسی کی صرف حمایت ہی نہیں کی تھی بلکہ اس پر اظہار اطمینان بھی کیا تھا. اس مختصر تمہید کے بعد موجودہ ملکی صورتحال میں راقم نے علامہ محمد احمد لدھیانوی حفظہ اللہ سے اسلام آباد میں ایک انٹرویو لیا ہے اسے قارئین کی نذر کرتا ہوں. یاد رہے کہ یہ انٹرویو موجودہ صورتحال کے حوالے سے ہے اور چند سوالات پر مشتمل ہے.
سوال: علامہ صاحب آپ کو سفیر امن کیوں کہا جاتا ہے ؟
جواب: مجھے قوم سفیر امن اس لیئے کہتی ہے کہ میں نے ملک میں امن و امان قائم رکھنے کے لیئے عملاً سفارتکاری کی ہے. اسکی بیسیوں مثالیں ہیں چند ایک آپ کے سامنے رکھنا چاہوں گا. قائدین اہلسنت کی شھادتوں سے لیکر سانحہ رشید آباد ملتان ،سانحہ تعلیم القرآن راجہ بازار راولپنڈی ، کراچی میں علامہ عبدالغفور ندیم کی شھادت سمیت کئی ایسے مواقع آئے کہ اہلسنت نوجوانوں اور عوام کے جذبات سخت تھے لیکن ملک و ملت کے وسیع تر مفاد میں میں نے ان سب مواقع پر عوام اور اہلسنت کارکنوں کے جذبات کو ٹھنڈا کیا اور قانونی اور آئینی جدوجہد کا درس دیتے ہوئے عوام کو قانونی اور آئینی طریقہ کار کو اپنانے کے لیئے ایک سمت دی. لڑائی و جھگڑا و قتل و غارت کبھی بھی کسی مسئلے کا حل نہیں ہوا کرتا. ہم پاکستانی ہیں اور پاکستان ہمارا ہے. میری اسی عدم تشدد کی پالیسی کا یہ نتیجہ ہوا کہ ملک بھر میں صحابہ کرام و اھلبیت اطہار رضی اللہ عنھم کی شان میں گستاخی کے مرتکب افراد کے خلاف قانون حرکت میں آیا اور اسوقت ملک میں مقدسات کی توہین کے عنوان سے ایف آئی آرز کی تعداد ہزاروں میں ہے.
سوال. علامہ صاحب آپ کے مداح آپ کو نواب زمانہ بھی کہتے ہیں اسکی وجہ؟
جواب. میں خود کو تو نہیں کہتا البتہ لوگ کہتے ہیں اسکی وجہ یہ ہے کہ میرے علاقے کمالیہ میں مذہبی عنوان پر ایک نواب سے میری قانونی پنجہ آزمائی ہوئی تھی اور میں وہ مقدمہ بڑی شان سے جیتا تھا اسکے بعد عوام جلسوں میں مجھے سنیوں کا نواب کہنے لگ گئ.
سوال. اسلام آباد ترلائی میں دھشت گردی کا واقعہ پیش آیا اس پہ آپ کا کیا رول رہا ہے؟
جواب. میں اور میری جماعت نے ہمیشہ دھشت گردی کی بھرپور اور پرزور مذمت کی ہے. ملک میں جہاں بھی اور جس عنوان پر بھی دھشت گردی کا کوئی واقعہ ہوتا ہے ہم اسکی مذمت کرتے ہیں. ترلائی واقعہ پر بھی ہم نے بھرپور مذمت کی ہے.
سوال: علامہ صاحب قومی اسمبلی اور سینیٹ آف پاکستان سے تحفظ ناموس صحابہ و اھلبیت بل اتفاق رائے سے منظور ہوا لیکن اس پر قانون سازی نہ ہو سکی آپ کیا سمجھتے ہیں کہ اسکی راہ میں کیا چیز رکاوٹ ہے؟
جواب:آپ نے بڑا خوبصورت سوال کیا ہے وطن عزیز پاکستان سے فرقہ واریت کے خاتمہ کا مستقل حل تحفظ ناموس صحابہ و اھلبیت بل پر قانون سازی ہے. ملک میں مقدسات کی شان میں گستاخیوں کا جب سلسلہ عروج پر پہنچا تو ملک میں بسنے والے تمام مذہبی طبقات نے ملک گیر احتجاج کیا کراچی، ملتان، اسلام آباد میں بالخصوص بڑے مارچ ہوئے. بیک ڈور چینلز سے بات چیت کا آغاز ہوا جس میں شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی ،مفتی منیب الرحمن ،سینیٹر علامہ حافظ عبدالکریم، ڈاکٹر عادل خان سمیت بڑے جید راہنماؤں کو آن بورڈ لیا گیا اور ہم اس کا اہم حصہ تھے طے یہ پایا کہ فرقہ واریت کے خاتمہ اور مقدسات کی شان میں گستاخیوں کے سد باب کا واحد راستہ یہی ہے کہ مقدسات کی عزت و ناموس کے تحفظ کے لیئے قانون سازی ہو. اسی کے نتیجہ میں ملک کے دو بڑے ایوانوں سے یہ بل اتفاق رائے سے منظور ہوا لیکن بدقسمتی سے آج تک اس پر قانون سازی نہ ہو سکی ہماری کوشش ہے کہ اس پر قانون سازی ہو جائے تاکہ فرقہ واریت کے خاتمہ کا مستقل حل ممکن ہو سکے. ہم اس پر چارہ جوئی جاری رکھے ہوئے ہیں.
؟سوال: علامہ صاحب پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ جنگی حالات میں آپ کا کیا مؤقف ہے
جواب: پاک افغان کشیدگی تشویشناک ہے۔ پاکستان کی سلامتی، خودمختاری اور سرحدوں کا تحفظ ہر پاکستانی کے لیے سب سے مقدم ہے اور ہم اپنی ریاست کے ساتھ کھڑے ہیں۔
تاہم دونوں برادر اسلامی ممالک کو چاہیے کہ تحمل، ذمہ داری اور مؤثر سفارت کاری کے ذریعے مسائل کا حل تلاش کریں تاکہ خطے میں امن اور استحکام قائم ہو سکے. تاہم برادر اسلامی ملک افغانستان کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ اس پر آنے والے ہر مشکل وقت میں پاکستان ساتھ کھڑا رہا ہے اور افغانوں نے جو جنگیں جیتی ہیں وہ درحقیقت پاکستان نے ہی جتوائی ہیں.
سوال: علامہ صاحب مقدسات کی توہین کی روک تھام کیسے ممکن ہے؟
جواب: پاکستان ایک اسلامی جمہوری ملک ہے تمام مذاہب کے لوگوں کو اپنی مذہبی عبادات کی مکمل آزادی حاصل ہے جو ملک کے سب باشندوں کا آئینی حق ہے البتہ عبادت اگر عبادت گاہوں میں ہی محدود ہو تو اس سے فتنہ و فساد کا سد باب ممکن ہو گا۔
مسائل اور فریقین کا تصادم آئین سے انحراف کے باعث پیدا ہوتے ہیں۔
مقدسات کی حرمت مسلم ہے۔
مقدسات کی توہین قانونی و آئینی جرائم ہیں۔
مقدسات کی توہین کرنے والوں کو قانون کے مطابق منصفانہ سزائیں بروقت دینے سے تمام مسائل کا حل ہے۔
سوال: علامہ صاحب عالمی طاقتوں کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کے حوالے سے آپ کی کیا رائے ہے؟
جواب:وطن عزیز پاکستان کے مقتدر طبقے کو سب سے پہلے اپنی داخلی خودمختاری، نظریاتی اساس اور قومی مفادات کو مقدم رکھنا چاہیے۔ عالمی طاقتوں کے ساتھ تعلقات رکھنا ناگزیر ہیں ، لیکن ہمیں برابری اور باہمی احترام کی بنیاد پر خارجہ پالیسی ترتیب دینی چاہیے۔
ہم سمجھتے ہیں کہ معاشی خود انحصاری کے بغیر سیاسی خودمختاری ممکن نہیں، اس لیے حکومت کو چاہیے کہ ملکی معیشت کو مضبوط کرے، سودی نظام سے نجات حاصل کرے اور اندرونی استحکام پیدا کرے۔
عالمی دباؤ کا مقابلہ صرف بیانات سے نہیں بلکہ مضبوط معیشت، داخلی اتحاد اور واضح خارجہ پالیسی سے کیا جا سکتا ہے۔
سوال: مسلم امہ کے باہمی اتحاد کے لیئے آپ کیا تجویز دیں گے؟
جواب:مسلم حکمرانوں کو چاہیے کہ وہ او. آئی. سی کو مضبوط اور منظم کریں یہ ایک بہترین پلیٹ فارم موجود ہے پاکستانی مقتدر طبقے کو چاہیے کہ وہ او. آئی. سی کے میزبانی کے فرائض سرانجام دے.
سوال. ملکی استحکام کے لیئے مذہبی جماعتوں کا کیا کردار ہونا چاہیے؟
جواب: ملک کا استحکام صرف سیاسی یا معاشی اقدامات سے نہیں بلکہ یہ اخلاقی، سماجی اور فکری استحکام سے بھی جڑا ہوتا ہے۔
مذہبی جماعتوں کا بنیادی کردار معاشرے میں اخلاقیات، رواداری اور قانون کی پاسداری کو فروغ دینا ہے۔
ہم سمجھتے ہیں کہ مذہبی قیادت کو چاہیے کہ
انتہاء پسندی کی کھل کر مذمت کرے
نوجوانوں کی مثبت تربیت کرے
آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اصلاحی کردار ادا کرے
ملک میں اتحاد و یگانگت پیدا کرنا اور عوام کو مایوسی کے بجائے امید دینا بھی مذہبی جماعتوں کی ذمہ داری ہے۔حقیقت پسندانہ پہلو
مذہبی جماعتیں مساجد، مدارس اور فلاحی سرگرمیوں کے ذریعے عوام تک براہِ راست رسائی رکھتی ہیں۔
وہ سماجی ہم آہنگی اور امن کے قیام میں مثبت کردار ادا کر سکتی ہیں۔
لیکن انہیں سیاسی کشیدگی بڑھانے یا اشتعال انگیز بیانیے سے گریز کرنا چاہیے۔
سوال. عوامی مسائل کے حل کے لیئے آپ کی جماعت سمیت دیگر مذہبی جماعتیں کیا کردار ادا کر رہی ہیں؟
جواب:اس حقیقت کو تسلیم کرنا پڑے گا کہ مذہبی جماعتوں نے فلاحی کام کیے ہیں، مگر عوامی مسائل جیسے مہنگائی، بے روزگاری اور گورننس کے معاملات زیادہ تر حکومتی پالیسیوں سے جڑے ہوتے ہیں۔ جہاں جہاں مذہبی جماعتوں کو اقتدار ملا، وہاں ان کی کارکردگی کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
ہم سمجھتے ہیں کہ ہمیں صرف نعروں کے بجائے عملی منصوبہ بندی، جدید مہارت اور شفاف طرزِ حکمرانی پر بھی توجہ دینی چاہیے۔
سوال: علامہ صاحب آپ اکثر سرکاری اجلاسوں میں نظر آتے ہیں ملکی سلامتی کے اداروں کے ساتھ آپ کے تعلقات کیسے ہیں؟
جواب: پاکستان ہم سب کا ہے اور اسکے استحکام کا راز بھی ملکی سالمیت کے اداروں کے مستحکم ہونے میں مضمر ہے. پاکستان ایٹمی قوت ہونے کی وجہ سے اطراف سے دشمنوں کے نشانے پر ہے ہم نے ہر موڑ پر ملکی سلامتی کے لیئے ملکی سالمیت کے اداروں کا بغیر کسی ذاتی مفاد کے بھرپور ساتھ دیا ہے اور ملکی سالمیت کو ہم اپنا فریضہ سمجھتے ہیں اس لیئے ملکی سلامتی کے اداروں کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں بھی اور مذید اچھے تعلقات کے خواہاں ہیں. ففتھ جنریشن وار کا مقابلہ جہاں ملکی سالمیت کے اداروں نے کیا ہے وہاں ہماری پالیسی کے مطابق ہماری جماعت کے مرکزی ترجمان مفتی عبدالوحید جلالی نے ملک کے مختلف صوبوں میں ففتھ جنریشن وار اور ہماری ذمہ داریاں کے عنوان سے میڈیا ورکشاپس کے ذریعہ اور اس عنوان پر کالم نگاری کے ذریعہ ملک کے نوجوان طبقے میں شعور کو بیدار کیا ہے. ہم نے ملک کے خلاف ہونے والی ہر سازش کا ڈٹ کر مقابلہ کیا ہے اور کرتے رہیں گے.
سوال:علامہ محمد احمد لدھیانوی صاحب آپ کے شکریہ کے ساتھ آخر میں ایک سوال کروں گا کہ ملکی استحکام کے لیئے آپ پبلک کو کیا پیغام دینا چاہیں گے؟
جواب: ملکی استحکام کے لیئے ضروری ہے کہ ہم طبقاتی تفریق کا خاتمہ کریں، لسانی و علاقائی تعصبات سے باہر نکل کر ایک قوم بنیں، ترقی ہمیشہ قومیں کرتی ہیں پاکستان بنانے کا مقصد یہ تھا کہ اس ملک میں اسلامی نظام حکومت ہو. اسلامی نظام ہی وہ واحد نظام ہے جس میں عدل و انصاف و مساوات ہے جب اسلامی نظام نافذ ہو گا اور انصاف ملک کے باسیوں کو انکی دہلیز پر ملے گا تو یہ ملک امن و استحکام کا قلعہ بن جائے گا. اللہ تعالیٰ ہمارے ملک کی ہر طرح سے حفاظت فرمائے آمین ثم آمین
Also Read
