سنی علماء کونسل پاکستان کی طرف سے اکابرین اھلسنت والجماعت کے مؤقف کی تائید
مفتی عبدالوحید جلالی مرکزی ترجمان سنی علماء کونسل پاکستان
احتساب ناصبیت نامی کتاب پر اکابرین اھلسنت والجماعت نے واضح مؤقف دیا جس پر ہماری جماعت نے اپنے اکابرین پر اعتماد کرتے بھرپور تائید کرتے ہوئے اکابرین اھلسنت والجماعت کے اس بروقت اعلامیہ پر انہیں خراج تحسین پیش کیا.
احتساب ناصبیت نامی کتاب کے منظر عام پر آتے ہی اس میں موجود متنازع تحاریر کے خلاف اھلسنت کے علمی حلقوں میں اور سوشل میڈیا پر شدید رد عمل دیکھنے کو ملا جو کہ فطری عمل ہے. سنی علماء کونسل پاکستان کے ذمہ داران و کارکنان کے علاوہ دیوبندی، بریلوی اور اھلحدیث علماء و نمائندگان نے بھی شدید رد عمل دیا. تاھم شیخ الحدیث والتفسیر حضرت مولانا مفتی حبیب الرحمن درخواستی صاحب، حضرت مولانا عبدالواحد قریشی صاحب، خطیب اسلام علامہ عبدالکریم ندیم صاحب اور دیگر اکابر علمائے کرام نے رد عمل کے ساتھ ساتھ قضیہ کے حل کے لیئے بھی بھرپور کردار ادا کیا، ھماری جماعت کی طرف سے سنی علماء کونسل پنجاب کے راہنما پروفیسر سید علی معاویہ شاہ صاحب ان اکابرین کے ہمراہ رھے اور متنازع عبارات کی نشاندہی کے ساتھ اکابرین کو بھرپور بریف کرنے میں کامیاب رھے، سید علی معاویہ شاہ صاحب اس پورے پراسیس میں قائد اھلسنت علامہ محمد احمد لدھیانوی صاحب حفظہ اللہ اور جرنیل اھلسنت علامہ غازی اورنگزیب فاروقی صاحب حفظہ اللہ کے ساتھ مکمل رابطے میں رھے. اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اکابر علماء کرام نے بروقت اعلامیہ جاری کر کے اور اھلسنت کے متفقہ مؤقف کو واضح کر کے اھلسنت عوام و خواص کو اضطرابی کیفیت سے نکالا، اعلامیہ پر درج ذیل علماء کرام کے دستخط موجود ہیں. شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب صدر وفاق المدارس العربیہ پاکستان و صدر دارالعلوم کراچی، حضرت مولانا فضل الرحمن صاحب سرپرست وفاق المدارس العربیہ پاکستان و امیر جمعیت علماء اسلام پاکستان، حضرت مولانا پیر ناصر الدین خان خاکوانی صاحب امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان، حضرت مولانا محمد حنیف جالندھری صاحب ناظم اعلیٰ وفاق المدارس العربیہ پاکستان و مہتمم جامعہ خیر المدارس ملتان، حضرت مولانا صاحبزادہ عزیز احمد صاحب ناظم اعلیٰ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان، حضرت مولانا عبدالغفور حیدری صاحب ناظم اعلیٰ جمعیت علماء اسلام پاکستان، حضرت مولانا خواجہ خلیل احمد صاحب سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کندیاں شریف، حضرت مولانا مفتی صلاح الدین صاحب ناظم وفاق المدارس العربیہ بلوچستان
ایک ھفتہ سے جاری مشاورت کے بعد ان اکابرین کے دستخطوں کے ساتھ جاری ہونے والے اعلامیہ نے رافضیت کے سارے پلان چکناچور کر کے رکھ دیئے، اور قوم کو بڑے بحران سے نکالنے میں کامیاب ہوئے. صدر سنی علماء کونسل پاکستان علامہ اورنگزیب فاروقی صاحب نے ویڈیو کلپ کے ذریعے اس فیصلے کی نہ صرف تائید کی بلکہ اس بروقت فیصلے پر اکابرین وفاق المدارس العربیہ پاکستان کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے ان پر مکمل اعتماد کے اعلان کو بھی دہرایا. علامہ اورنگزیب فاروقی صاحب کا جماعت کی پالیسی پر مبنی ویڈیو کلپ ھم جماعت کے مرکزی شعبہ نشر و اشاعت کی طرف سے سوشل میڈیا پر وائرل کر چکے ہیں.
قائد اھلسنت سفیر امن علامہ محمد احمد لدھیانوی صاحب چونکہ تنظیمی و دعوتی دورے پر بیرون ملک تھے، تاھم وہ لمحہ بالمحہ اس عنوان پر جہاں جماعت کے ذمہ داران سے رابطے میں رھے وھاں اکابرین سے بھی رابطہ رکھے ہوئے تھے، قائد محترم کل شام ہی وطن واپس پہنچے ہیں، آج میں نے اکابرین کے اس فیصلے کے حوالے سے انکا مؤقف جاننے کے لیئے ٹیلفونک رابطہ کیا تو قائد اھلسنت علامہ محمد احمد لدھیانوی صاحب نے بھی اکابرین کے اس بروقت فیصلے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے اکابرین کے اس فیصلے کی تائید فرمائی اور اس پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے اکابرین کا شکریہ بھی ادا کیا اور بہترین کردار پر اکابرین کو خراج تحسین پیش کیا. مذید اس فیصلے پر تفصیلی غور و خوض اور احتساب ناصبیت کتاب کی متنازع عبارات کو مرکزی مجلس عاملہ کے اجلاس میں زیر بحث لا کر اسکے قانونی پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے گا، قائد اھلسنت علامہ محمد احمد لدھیانوی صاحب حفظہ اللہ نے مذید فرمایا کہ ھم دشمن کی ہر چال پر بخوبی نظر رکھے ہوئے ہیں اور اس کے قانونی تعاقب کے لیئے ہمہ وقت تیار ہیں اس عنوان پر ھم کسی بھی ایسے نقطے تک کو برداشت نہیں کر سکتے جسکی وجہ سے صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے گستاخ کو قانونی طور پر معمولی سی بھی ریلیف ملے.
محترم قارئین
اکابرین کے متفقہ فیصلہ سے اس امر کی بخوبی وضاحت ہو چکی ہے کہ احتساب ناصبیت نامی کتاب میں صحابہ کرام رضی اللہ عنھم اور بالخصوص سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی گستاخی پر مشتمل بعض رسائل کی عبارات نقل کی گئی ہیں ان عبارات کا تعلق اھلسنت والجماعت کے متفقہ مؤقف سے ہر گز نہیں بلکہ صاحب تحریر سے یا تو کوئی غلطی ہوئی ہے یا پھر *صاحب تحریر کی ذاتی رائے ہے جو اھلسنت کے متفقہ مؤقف سے متصادم ھے. لھذا کوئی ایسی رائے جو اھلسنت والجماعت کے متفقہ مؤقف سے متصادم ہو اسکا کوئی اعتبار نہیں ہو گا بلکہ وہ قابل رد تصور کی جائے گی.
اکابرین کے گستاخ : جو احتساب ناصبیت میں موجود متنازع عبارات کے دفاع میں شب و روز صرف کیئے بیٹھے تھے اور ہمیں اکابرین کا گستاخ کہتے کہتے انکی زبانیں نہیں تھکتی تھیں انہیں کہنا چاھتا ھوں کہ وہ ضد و ہٹ دھرمی کو چھوڑتے ہوئے ذرا آگے بڑھیں اور اپنی ضد کے مقابلے میں اکابرین کے فیصلے کو قبول کریں. صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کی عزت و ناموس کا دفاع ہم یا ھماری جماعت کا کوئی ذاتی مسئلہ نہیں ہے بلکہ یہ ایمانی مسئلہ ہے اور ان مقدس ہستیوں کی عزت و ناموس کا تحفظ اپنا مذھبی فریضہ سمجھتے ہیں.اس کتاب کے شائع ہونے کے بعد ملک میں موجود اھلسنت کے مسالک ثلاثہ کے نمائندوں نے صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے دفاع میں بہترین رول ادا کیا، ملک سے باہر مکہ و مدینہ ،بنگلہ دیش و ملائشیاء و برطانیہ میں موجود صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے دیوانوں نے بھرپور رد عمل دینے کے ساتھ ساتھ قضیہ کے حل کے لیئے بھی بہترین کردار ادا کیا ان تمامی حضرات کو خراج تحسین پیش ہوئے دعا گو ہوں کہ اللہ تعالیٰ آپ سب کی کوشش و محنت کو اپنی بارگاہ میں شرف قبولیت عطاء فرمائے آمین. *فقط آپ کا بھائی مفتی عبدالوحیدجلالی مرکزی ترجمان سنی علماء کونسل پاکستان
