حضرت خلیفہ عبدالقیومؒ کا یومِ وفات اور ان کی ناقابلِ فراموش خدمات | مفتی عبدالوحید جلالی | سنی علماء کونسل پاکستان

میرے شیخ، پیر طریقت، رہبر شریعت حضرت خلیفہ عبدالقیوم نور اللہ مرقدہ

مفتی عبدالوحید جلالی، مرکزی ترجمان سنی علماء کونسل پاکستان

 اس فانی دنیا میں صدا کسی نے نہیں رہنا مگر بعض ہستیوں کی جدائی اس کارگاہ حیات کو ایک انمٹ احساس اداسی دے جاتی ہے پیچھے رہنے والے اس جہاں فانی کے باسی انہیں آسانی سے بھول نہیں پاتے اگر دنیا سے جانے والا ایک با عمل عالم دین ہو احساس زیاں  اور بھی شدید ہوتا ہے  حضرت خلیفہ عبدالقیوم نور اللہ مرقدہ بھی ایسی شخصیات میں سے ایک  تھے حضرت خلیفہ صاحب رحمہ اللہ علیہ کی خانقاہی اور سیاسی و تحریکی خدمات کو تحریر کرنے سے پہلے مناسب ہے کہ ان کی پیدائش و جائے پیدائش اور زندگی کے ابتدائی دور کا احاطہ کیا جائے۔

یہ خبر بھی پڑھیں
دفاع صحابہ و دفاع پاکستان میڈیا کنونشن اٹک

قارئین کرام!

 حضرت خلیفہ عبدالقیوم صاحب نور اللہ مرقدہ اگست کی دو تاریخ 1956ء  کو پاکستان کے صوبہ خیبر پختون خواہ کے مشہور شہر ڈیرہ اسماعیل خان تحصیل کولاچی سے 22 کلومیٹر پہاڑ کے دامن میں واقع گاؤں  روہڑی میں پختونوں کی ایک قوم  گنڈہ پور سے تعلق رکھنے والے اپنے قوم کے منصف مزاج شخصیت حاجی روزی خان مرحوم کے گھر پیدا ہوئے  کسی مقام کی شہرت واھمیت کا مدار اس پر نہیں ھوتا کہ اسکے مکین کس قدر دولت مند ہیں  انکی رھائش بودوباش کس قدر شاھانہ ھے اسکے  برعکس امر واقع یہ ھے کہ کسی مقام کو رفعت ٫ بلندی اھمیت شہرت ایسی تاریخ ساز شخصیات سے ملتی ہے جو اپنی چند روزہ فانی زندگی کو با مقصد بنا کر اپنی بے لاک خدمات فلاح انسانیت کے لیے وقف کر دیتے ہیں تاریخ ان کا ذکر سنہری حرف سے کرتی ہے کولاچی سے 22 کلومیٹر دور پہاڑ کے دامن میں واقع گاؤں روڑی کو ہم کیا جانتے ہیں اگر حضرت خلیفہ عبدالقیوم نوراللہ مرقدہ.. کی پیدائش وہاں نہ ہوتی. 
حضرت جی کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ بچپن ہی سے نیک سیرت تھے اپنے ہم عصر ساتھیوں میں باوقار و سنجیدہ شمار ہوتے تھے دینی علوم کا آغاز اپنے علاقے کی دینی درسگاہ سے فرمایا اور بچپن ہی سے ذکر اللہ کا شغف رکھتے تھے، بلآخر تبلیغی جماعت کے بزرگ سراج السالکین حضرت ابو سعید جمیل  احمد دہلوی رحمہ اللہ علیہ  کے ہاتھ پر بیعت کر کے تصوف و سلوک کی راہ کا باقاعدہ اغاز فرمایا اللہ تعالی نے حضرت جی حضرت خلیفہ عبدالقیوم صاحب نور اللہ  مرقدہ کو طریقت کی دنیا میں وہ بلند مقام عطاء فرمایا کہ ہزاروں کی تعداد میں بندگان خدا نے ان کے دست مبارک پر بیعت کرتے ہوئے تزکیۃ القلوب کی سعادت حاصل کی حضرت جی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی خداداد صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے اپنی بے لوث خدمات بنی نوح انسان کے لیے وقف فرما دیں حضرت خلیفہ عبدالقیوم صاحب نور اللہ مرقدہ نے اپنی بے لاگ اور انتھک کاوش و عالی حوصلگی ،حق گوئی و بے باکی اور تزکیہ القلوب سے سماجی انقلاب کے ذریعے دین  اسلام کے غلبہ کے لیے جہدِ مسلسل جاری رکھی. 
 ذاتی آرام و آرائش جاہ و مرتبہ کی پرواہ کیے بغیر احیائے دین اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کی عزت و ناموس کے تحفظ کے لیے امیر عزیمت شہید کی جماعت اہل سنت والجماعت پاکستان کے پلیٹ فارم پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کے دفاع کی خاطر مصائب و آلام قید و بند کی صعوبتوں کو خندق پیشانی سے گلے لگایا حضرت خلیفہ عبدالقیوم صاحب نور اللہ مرقدہ ہندوستان میں قائم انقلابی خانقاہ.... خانقاہ رائےپور کے کردار سے بے حد متاثر تھے اور خانقاہ رائے پور کے انقلابی فلسفہ اور کردار کی تعریف فرمایا کرتے تھے حضرت خلیفہ عبدالقیوم صاحب نور اللہ مرقدہ نے اہل سنت والجماعت پاکستان کی صوبائی اور مرکزی سطح پہ مختلف ذمہ داریوں پہ فائض رہتے ہوئے تحریک مدح صحابہ اور دفاع صحابہ رضی اللہ عنہ کو اگے بڑھایا جبل استقامت شہزادہ پارلیمنٹ علامہ محمد اعظم طارق شہید نے ملت اسلامیہ پاکستان کی بنیاد رکھی اور حضرت خلیفہ عبدالقیوم صاحب رحمہ اللہ علیہ کو اپنی جماعت کی  ٹیم کا حصہ بنایا. 
میں نے حضرت جی حضرت خلیفۃ عبدالقیوم صاحب نوراللہ مرقدہ کے دست مبارک پر درس نظامی کے دوسرے سال میں طالب علمی زمانہ میں پاکستان کے شہر کراچی میں بیعت کی سعادت حاصل کی
بیعت کے بعد میں نے خانقائی اعمال کو جاری رکھا جب حضرت کراچی تشریف لے جاتے تو ملاقات ہوتی تعلیم کے بعد کچھ عرصہ تدریسی مصروفیات کی وجہ سے رابطہ نہ ہو سکا. 
 اس دور میں موبائل سروس و انٹر نیٹ سروس کی سہولیات میسر نہ ہونے کی وجہ سے کافی وقت رابطہ نہ ھو سکا اور وھاں کے علاقائی حالات کی وجہ سے سفر مشکل تھا. 
 جبل استقامت حضرت مولانا علامہ محمد اعظم طارق شہید کے جنازے کے موقع پہ حضرت جی رحمہ اللہ  سے مختصر ملاقات ہوئی تو حضرت جی  نے عدم رابطہ کا شکوہ فرمایا
 تو اسی سال یعنی 2003ء کے آخر میں ڈیرہ اسماعیل خان میں  حضرت جی کی خانقاہ میں حاضری دی پھر حضرت جی سے اخری دم تک رابطے میں رہا 2008ء کے الیکشن میں حضرت جی نے صوبائی سیٹ کے لیے الیکشن لڑا تو بھاری اکثریت سے الیکشن جیت کر خیبر پختون خواہ کی صوبائی اسمبلی کے ممبر منتخب ہوئے. اس عرصے میں اپنی حدود کار میں تعمیر و ترقی کے جال بچھائے امیر عزیمت شہید کے مشن کی تکمیل کے لیے جدو جہد کرنے کی پاداش میں ان پر با رہا قاتلانہ حملے ہوئے اور مختلف جماعتی ادوار میں پابند سلاسل رہے حضرت جی رحمۃ اللہ علیہ کی تنظیمی زندگی میں قید و بند کا کل عرصہ آٹھ برس ہے یعنی اپنی زندگی کے اٹھ برس دفاع صحابہ و اھلبیت  اطہار رضی اللہ عنہم کے لیے جیل کی کال کوٹھڑیوں میں گزارے. مگر ہزاروں مصائب برداشت کر کے بھی استقامت کا مظاہرہ کیا جب ایم پی اے تھے تو اپنی حدود کار میں گلیوں کی پختگی میں بعض مقامات پر خود نگرانی فرماتے اور بعض مقامات پر مزدوروں کے ہمراہ خدمت کرتے ہوئے نظر آئے. 
راقم نےخود ایک مرتبہ خانقاہ  میں محفل ذکر میں شرکت کی غرض سے گیا تو صبح ناشتے کے بعد ارادہ کیا اب مرشد سے ملاقات کر کے اجازت لوں اور واپسی کی تیاری کروں تو حضرت کے کسی قریبی ساتھی سے حضرت کے بارے میں پوچھا تو اس ساتھی نے بتایا کہ قریب ہی گلی کی پختگی کا کام ہو رہا ہے حضرت پیر صاحب وہیں تشریف فرما ہیں راقم بھی وہیں چلا گیا تو دیکھا کہ مرشد ایم پی اے ہوتے ہوئے خود مزدوروں کے ھمراہ  کام کر رہے ہیں یہ سب سیاست کے ساتھ شریعت اور طریقت کے اثر کا نتیجہ تھا حضرت جی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی ساری زندگی اسلام کی خدمت میں بسر کی دین کی خدمت میں انہوں نے ہر دکھ خوشی سے برداشت کیا اصولوں پر انہوں نے کبھی بھی مصلحتوں کو نہیں اپنایا. 
جس بات کو دین کے مطابق درست جانا اس پر شدت سے قائم رہے اور دوسروں کو بھی اس کی تلقین کرتے اصولوں پر انہوں نے کبھی مصلحت نہیں کی اپنے ذاتی نفع و نقصان کا خیال کیے بغیر انہوں نے ہمیشہ حق کی شمع جلائے رکھی جس مستقل مزاجی سے انہوں نے دین کی خدمت کی یہ انہی کا حصہ ہے. 
وہ مرد فقیر اپنے اندر  جرات رندانہ، جذبہ حق گوئی اور بے باکی، استقامت جبلی اور عزیمت ایمانی رکھتا تھا ایسی توفیق اللہ کے خاص بندوں ہی کے حصے میں آتی ہے، 
لیکن اس فاروقی رعب کے باوجود اپنوں کے ساتھ ان کا کریمانہ مشفقانہ متوازیانہ طرز عمل شرما دینے کے مترادف تھا فقیر ناچیز کا اکرام اور ان کا پرخلوص لہجہ ایسا تھا کہ اس کیفیت کو اپنے الفاظ میں سمویا نہیں جاسکتا، سنت اور صحابہ کرام سے محبت انگریزیت و بدعت سے نفرت کو دیکھ کے یوں  محسوس ہوتا تھا کہ حضرت خلیفہ عبدالقیوم صاحب  ابھی مالٹا سے حضرت شیخ الہند رحمتہ اللہ علیہ، حضرت مدنی رحمہ اللہ علیہ کی مجلس سے اٹھ کے آرہے ہیں. 
توحید ان کی جبلت میں ودیعت فرما دی گئی تھی، خیبر پختون خواہ اسمبلی کے جب ممبر رہے تو اس وقت کی حکومت و اپوزیشن کے سب ہی اراکین حضرت کو عزت اور اکرام سے پیش آتے اور غیر متنازع شخصیت کے طور پر رہے. 
دفاع صحابہ کی جدوجہد کے جرم میں پابند سلاسل رہے تو قید و بند کی صعوبتوں کی وجہ سے گردوں کے عارضے میں مبتلا ہو گئے بلآ خر 18 اکتوبر 2014 کو کڈنی سینٹر راولپنڈی میں وفات ہوئی. انا للہ وانا الیہ راجعون. 
حضرت خلیفہ عبدالقیوم صاحب نور اللہ مرقدہ  نے اپنی زندگی کے آخری دور میں نے اپنے خانقاہی سلسلے کی بڑھوتری کے لیئے خلفاء کا اعلان فرمایا جو خانقاہی ترتیب کے مطابق درج ذیل ہیں. 
حضرت مولانا امجد جدون صاحب ایبٹ آباد. حضرت مولانا خلیفہ جمیل احمد قادری صاحب راولپنڈی ،حضرت مولانا خلیفہ حاکم علی صاحب ملتان، مفتی خلیفہ عبدالوحید جلالی باغ آزاد کشمیر، مولانا خلیفہ فخر عالم صدیق صاحب پشاور حکیم خلیفہ ابراہیم قاسمی پشاور، حضرت خلیفہ عبدالعزیز صاحب ڈیرہ اسماعیل خان، مفتی  خلیفہ محمود الحسن صاحب جنڈ اٹک ،سید خلیفہ فیروز شاہ صاحب (صرف سلسلہ قادریہ میں) پشاور. خلیفہ محمد کاشف صاحب اسلام آباد. خلیفہ محمد اللہ نواز قادری صاحب ڈیرہ اسماعیل خان، مفتی خلیفہ مقبول صاحب ڈیرہ اسماعیل خان، مفتی خلیفہ سعید صاحب رائیونڈ ، خلیفہ محمد ثاقب صاحب ڈیرہ اسماعیل خان، جناب خلیفہ اخون زادہ صاحب ڈیرہ اسماعیل خان.. 
خانقاہ ڈیرہ اسماعیل خان.. ڈیرہ اسماعیل خان شہر میں حضرت جی کی خانقاہ تھی جسے مرکز کا درجہ حاصل رہا ہے، حضرت خلیفہ عبدالقیوم صاحب نوراللہ مرقدہ کی وفات کے بعد انکے چھوٹے بھائی حضرت خلیفہ لالہ عبدالعزیز صاحب وہاں بیٹھتے ہیں اور تصوف و سلوک کے سلسلہ کو احسن انداز سے آگے بڑھا رہے ہیں. 
خانقاہ دارلقرآن قادریہ امینیہ راولپنڈی.. راولپنڈی میں حضرت خلیفہ عبدالقیوم صاحب نوراللہ مرقدہ کا قیام و محفل ذکر کا سلسلہ خانقاہ دارلقرآن قادریہ امینیہ میں رہا ہے اور حضرت خلیفہ قاری جمیل احمد قادری صاحب پر حضرت جی کا بہت اعتماد تھا، حضرت کی وفات کے بعد آپ کی تصوف و سلوک کی اس تحریک کو آگے بڑھانے میں حضرت خلیفہ قاری جمیل احمد قادری صاحب کا کلیدی کردار ہے، اس خانقاہ میں روزانہ کی بنیاد پر محفل ذکر کا اہتمام ہے اور بڑی تعداد میں علماء و عوام یہاں سے مستفید ہوتے ہیں. 
راقم فقیر کا نام جب خلافت کے لیئے حضرت جی نے منتخب فرمایا تو میں حضرت مولانا خلیفہ جمیل  احمد قادری صاحب دامت برکاتھم العالیہ کی خانقاہ راولپنڈی میں حضرت جی کی عیادت کے حاضر ہوا، تو اس موقع پر میں نے عرض کیا حضرت جی آپ نے میرے کندھوں پہ جو ذمہ داری ڈالی ہے میں تو اپنے آپ کو اس قابل نہیں سمجھتا حضرت جی رحمہ اللہ نے فرمایا  میں نے اس  قضیہ کے لیئے اپنے اللہ کے حضور دعا مانگی تو خواب میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت ہوئی ہے، اس زیارت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جن ناموں کو منظور فرمایا ہے میں نے انہی کو منتخب کیا ہے، میری آنکھوں سے یہ سن کر آنسوؤں آگئے اور کافی دیر تک روتا رہا، ایک طرف اپنی کمزوریوں و گناہوں کو دیکھتا اور دوسری طرف حضرت کی بشارت ، میں نے عرض کیا حضرت فقیر کے لیے دعا فرما دیں بیماری کی حالت میں دست مبارک دراز  فرمائے اور بہت دیر تک دعا فرماتے رہے بہرحال حضرت جی رحمہ اللہ علیہ کی خانقاہ میں ھم تو طفل مکتب بن کے بیٹھے اور بہت کچھ سیکھنے کا موقع میسر آیا. 
جماعت کے مرکزی جنرل کونسل کے اجلاسات میں جب  میں اہم امور پر کوئی رائے دیتا تو حضرت جی بہت خوش ہوتے تبسم فرماتے اور بعد میں حوصلہ افزائی فرماتے اور دعا بھی فرماتے. 
امام اھلسنت علامہ علی شیرحیدری شھید.. کی شہادت کے بعد جماعت نے حضرت خلیفہ عبدالقیوم صاحب نوراللہ مرقدہ کو اہل سنت والجماعت پاکستان کے مرکزی سرپرست کے عہدے کے لیے منتخب فرمایا اور آخر تک اسی عہدے پہ فائض رہتے ہوئے امیر عزیمت شہید کی مشن کی تکمیل کے لیے جدوجہد کرتے رہے  اور قائد اہلسنت علامہ محمد احمد لدھیانوی کے دست بازو بنتے ہوئے منزل کی جانب گامزن رہے. 
اللہ تعالی پیر طریقت خلیفہ عبدالقیوم صاحب رحمہ اللہ علیہ کو کروٹ کروٹ اپنے جوار رحمت میں جگہ نصیب فرمائے امین یا رب العالمین..
حضرت خلیفہ عبدالقیوم صاحب نوراللہ مرقدہ کے یوم وفات 18 اکتوبر کی مناسبت سے قائد اھلسنت علامہ محمد احمد لدھیانوی حفظہ اللہ سربراہ سنی علماء کونسل پاکستان اور علامہ اورنگزیب فاروقی صدر سنی علماء کونسل پاکستان نے کہا کہ حضرت خلیفہ عبدالقیوم کا شمار ہماری جماعت کے مشکل وقت کے اہم راہنماؤں میں ہوتا ہے، انکی مشن کے لیئے خدمات کو کبھی بھلایا نہیں جا سکتا، حضرت مولانا خلیفہ عبدالقیوم نوراللہ مرقدہ کی تحریکی و خانقاہی خدمات پر انہیں خراج تحسین پیش کرتے ہیں. 
فقط آپ کا بھائی مفتی عبدالوحیدجلالی مرکزی ترجمان سنی علماء کونسل پاکستان

Also Read