کوئٹہ – 25 اپریل 2026:
سنی علماء کونسل بلوچستان کے امیر مولانا محمد رمضان مینگل نے رجسٹریشن کے نام پر دینی مدارس کو سیل کرنے کے اقدام کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے ایک غیر ضروری اور قابلِ افسوس قدم قرار دیا ہے۔
سنی علماء کونسل بلوچستان کے امیر مولانا محمد رمضان مینگل نے حکومت کی جانب سے رجسٹریشن کے نام پر مدارس کو سیل کرنے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت فوری طور پر ان مدارس کو کھولے کیونکہ بلوچستان کے مخدوش حالات اس بات کے متقاضی نہیں کہ مدارس کے خلاف محاذ کھول کر مزید حالات کو کشیدہ بنایا جائے۔
اپنے جاری کردہ بیان میں انہوں نے کہاکہ حکومت کی جانب سے دینی مدارس جوکہ دین اسلام کے فروغ کے لئے اپنی خدمات سر انجام دیتے ہیں بلاوجہ طور پر ان کے خلاف محاذ کھول کر موجودہ کشیدہ حالات کے دوران لگی ہوئی آگ پر تیل ڈالنے کے مترادف ہے اس لئے حکومت دینی مدارس کے خلاف شروع کی جانے والی یہ کارروائی بند کرے اور فوری طور پر سیل کئے گئے مدارس کو بحال کریں تاکہ وہ دین اسلام کے لئے کئے اقدامات کو جاری رکھ سکیں کیونکہ ان مدارس میں دین اسلام کی ترویج اور لوگوں کو اسلام کی تعلیم دی جاتی ہے۔
مدارس اور مساجد دین اسلام کے لئے کام کرتے ہیں بلا وجہ ان کے خلاف اس طرح کی کارروائی شروع کرکے علماء کرام اور اس شعبے سے وابستہ لوگوں کیلئے مشکلات پیدا کی جارہی ہے جو حکومت کیلئے نیک شگون نہیں اس لئے حکومت ہوش کے ناخن لیتے ہوئے جن مدارس کو سیل کیا ہے ان کی سیل کھول کر علماء کرام کو اپنا کام کرنے دیں کیونکہ بلوچستان کے حالات ہے اس حکومت کی رٹ کہیں نظر نہیں آرہی حکومت کو اپنی پالیسیوں کا ازسرنو جائزہ لیکر حالات کی بہتری کیلئے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ جو کشیدہ حالات ہیں ان کو بہتر بنانے میں مدد مل سکے۔
