استحکام پاکستان کنونشن اسلام آباد
مفتی عبدالوحید جلالی مرکزی ترجمان سنی علماء کونسل پاکستان
دفاع پاکستان کونسل کے زیر اہتمام اور سنی علماء کونسل پاکستان کے زیر انتظام 5 اپریل 2026ء کو ریگالیہ ہوٹل اسلام آباد میں عظیم الشان استحکام پاکستان کنونشن منعقد ہوا ،دفاع پاکستان کونسل میں شامل جماعتوں میں اس کنونشن کی میزبانی کے فرائض سنی علماء کونسل پاکستان نے سرانجام دیئے، یہ کنونشن دفاع پاکستان کونسل کے سربراہ حضرت مولانا سمیع الحق شھید کی شھادت کے بعد دفاع پاکستان کونسل کی قیادت میں سے سنئیر ترین راہنما حضرت مولانا علامہ محـــمد احـــمد لدھیانــوی صاحب حفظہ اللہ کی تحریک پر اسلام آباد میں منعقد ہوا ہے. کنونشن کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا. تلاوت کلام پاک کے فرائض حضرت مولانا علامہ اشرف طاھر صاحب نے سرانجام دیئے، سنی علماء کونسل پاکستان کے مرکزی صدر علامہ غازی اورنگزیب فاروقی صاحب حفظہ اللہ نے ابتداءً مختصر گفتگو کے بعد قائد اھلسنت علامہ محمد احمد لدھیانوی صاحب حفظہ اللہ کو تمہیدی گفتگو اور کنونشن کے اغراض و مقاصد بیان کرنے کے لیئے دعوت دی. قائد اھلسنت علامہ محمد احمد لدھیانوی صاحب حفظہ اللہ نے مختصر جامع و مانع تمہیدی کلمات ادا کیئے اور پھر دفاع پاکستان کونسل کے ممبران نے ترتیب وار اس پر اپنے مؤقف کا اظہار کیا. خطاب فرمانے والے معزز ممبران میں مولانا فضل الرحمن خلیل صاحب امیر انصار الامہ پاکستان، حضرت مولانا مفتی حبیب الرحمن درخواستی صاحب مہتمم جامعہ عبداللہ بن مسعود خانپور و راہنما جمعیت علمائے اسلام (س) ،مولانا پیر مظہر سعید شاہ صاحب امیر آل جموں و کشمیر جمعیت علماء اسلام و مرکزی امیر خدام الاسلام پاکستان و ممبر قانون ساز اسمبلی آزاد کشمیر، حضرت مولانا علامہ محـــمد خطیب مصطفائی مرکزی راہنما جمعیت علماء پاکستان (شاہ نورانی گروپ) علامہ ڈاکٹر محمد علی تراب صاحب قائم مقام امیر مرکزی جمعیت اھلحدیث پاکستان، جناب عبداللہ گل صاحب سربراہ تحریک نوجوانان پاکستان، مولانا عبدالحق ثانی صاحب امیر جمعیت علماء اسلام (س). علامہ سید عتیق الرحمن شاہ محمدی راہنما مرکزی جمعیت اہلحدیث پاکستان، صاحبزادہ سعید الرشید عباسی صاحب ، حکیم محمد ابراہیم قاسمی صاحب چیئرمین راہ حق پارٹی پاکستان. جبکہ اس اھم قومی سطح کے کنونشن میں قائد پنجاب علامہ محمد اشرف طاھر صاحب صدر سنی علماء کونسل صوبہ پنجاب، محترم جناب راؤ محمد جاوید اقبال صاحب صدر سنی علماء کونسل ساؤتھ پنجاب ، قائد کشمیر علامہ تصدق حسین کشمیری صاحب صدر سنی علماء کونسل آزاد کشمیر، راقم الحروف کے علاوہ پیر طریقت رہبر شریعت جناب حضرت مولانا قاری محمد جمیل قادری صاحب، حافظ نصیر احمد صدر سنی علماء کونسل اسلام آباد، مفتی تنویر عالم فاروقی صاحب صدر سنی علماء کونسل راولپنڈی ڈویژن سمیت اھم شخصیات نے شرکت کی.
آخر میں قائد اھلسنت علامہ محمد احمد لدھیانوی صاحب حفظہ اللہ سربراہ سنی علماء کونسل پاکستان نے اعلامیہ جاری کیا. جس میں کہا کہ آج کا یہ اجلاس مشرق وسطی کے جنگی حالات میں حکومت پاکستان کے اصولی، متوازن اور ذمہ دارانہ مؤقف کو سراہتا ہے اور اسکی بھرپور تائید کرتا ہے
اجلاس فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وزیر خارجہ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے خاتمہ اور امن کے قیام کے لیئے جاری سفارتی کوششوں کو قابل تحسین قرار دیتا ہے اور انکے تسلسل کی ضرورت پر زور دیتا ہے
اجلاس سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک کے دانشمندانہ اور محتاط طرز عمل کو سراہتا ہے ،جبکہ ایران کی جانب سے جوابی کاروائیوں کے نام پر خطے کے دیگر ممالک، بالخصوص سعودی عرب کو نشانہ بنانے کے اقدامات کو باعث تشویش قرار دیتے ہوئے اس سے اجتناب پر زور دیتا ہے*..
اجلاس تمام متعلقہ فریقین بالخصوص ایران و امریکہ پر زور دیتا ہے کہ وہ صورتحال کی حساسیت کو مد نظر رکھتے ہوئے کشیدگی کے خاتمہ ،مذاکرات کے فروغ اور خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیئے مثبت اور تعمیری کردار ادا کریں.
اجلاس اس امر پر زور دیتا ہے کہ قومی مفاد کو ہر قسم کی بیرونی وابستگی پر مقدم رکھا جائے.اجلاس سکردو، کراچی اور اسلام آباد سمیت ملک کے مختلف شہروں میں ایک طبقہ کی جانب سے احتجاج کے نام پر ریاستی تنصیبات اور سرکاری و نجی املاک کو نذر آتش کرنے قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملوں اور فوجی جوانوں کی شھادت جیسے سنگین واقعات کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہے، اجلاس واضح کرتا ہے کہ اس نوعیت کی کاروائیاں دراصل پاکستان مخالف بیانئے کو تقویت دینے کے مترادف ہیں، لھذا ایسے عناصر کے خلاف سخت اور بلا امتیاز کاروائی کی جائے اور ان میں ملوث افراد کے مقدمات فوجی عدالتوں میں چلانے کو یقینی بنایا جائے تاکہ قانون کی عملداری اور قومی سلامتی کا تحفظ ممکن بنایا جا سکے.
اجلاس اس بات کا اعادہ کرتا ہے کہ پاکستان کے ریاستی اداروں کی عزت، وقار اور استحکام کا تحفظ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے. ریاستی اداروں کو بدنام کرنے یا انہیں بلیک میل کرنے کی ہر کوشش کو قومی وحدت کے خلاف اقدام قرار دیا جاتا ہے.
اجلاس فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی جانب سے مختلف مکاتب فکر کے ساتھ مکالمے کے عمل کو ایک مثبت اور قابل تحسین اقدام قرار دیتا ہے اور اس عمل کو سیاسی مقاصد کے لیئے متنازع بنانے کی کوششوں کی سخت مذمت کرتا ہے.*.
اجلاس اس عزم کا اظہار کرتا ہے کہ ہم پاکستانی ہیں، پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں اور ملک کی سالمیت، خود مختاری اور استحکام کے خلاف کسی بھی داخلی یا خارجی سازش کا متحد ہو کر مقابلہ کریں گے.
اجلاس میں مطالبہ کیا گیا کہ پاکستان و افغانستان دو برادر اسلامی ملکوں کےدرمیان تنازعہ کو مذاکرات کے ذریعہ حل کیا جائےل.
اجلاس میں پاک فوج کی دھشت گردی کے خلاف جدوجہد اور قربانیوں پر انہیں خراج تحسین پیش کرتے ہوئےاس عزم کا اظہار کیا گیا کہ دفاع پاکستان کونسل ملکی سالمیت کے لیئے ریاست کے ساتھ کھڑی ہے.
قائدِ اھلسنت علامہ محمد احمد لدھیانوی صاحب حفظہ اللہ نے واضح و دو ٹوک الفاظ میں اس امر کا اظہار کیا کہ ملک میں احتجاج کے نام پر ایک طبقے نے اس انداز سے تشدد کا ماحول بنایا کہ جیسے ایران پر حملہ پاکستان نے کیا ھو اور وہ طبقہ کوئی اور نہیں بلکہ وہ شیعہ ہیں.*.
قائد اھلسنت علامہ محمد احمد لدھیانوی صاحب حفظہ اللہ نے اس امر کا بھی اظہار کیا ہے کہ جنگ ایران اور امریکہ کے درمیان میں ھے اور ایران حالت جنگ میں عربوں اور خطے کے دیگر ممالک کو دوست بناتا جبکہ ایسے حالات میں اسکا سعودی عرب سمیت دیگر عرب ممالک پر میزائل مارنا اس حقیقت کو عیاں کرتا ہے کہ اسکی اصل دشمنی امریکہ سے نہیں بلکہ سعودی عرب اور حرمین شریفین سے ھے. بعض سوشل میڈیا ایکٹویسٹ قائد اھلسنت حفظہ اللہ کی بات کو شاید سمجھ نہیں سکے انہوں نے مکمل بات کے اظہار کی بجائے ادھوری بات لکھ کر بدگمانی پیدا کرنے کی مذموم کوشش کی ہے.
بعض ناقدین نے تو مشرق وسطیٰ کے جنگی ماحول کے مذمتی بیانیہ کو لے کر اس حد تک بلینڈر مار دیا کہ ہم ایران کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں حالانکہ اجلاس میں اس امر کو باعث تشویش قرار دیا گیا کہ اسوقت تک کہ جنگی سروے میں ایران نے اسرائیل پر ساڑھے آٹھ سو میزائل داغے ہیں جبکہ عرب ممالک کی سویلین آبادی پر پانچ ہزار سے زائد مزائل حملے ایران کر چکا ہے جو اس حقیقت کو ظاہر کرتا ہے ھے کہ ایران کی اصل دشمنی عرب ممالک سے ہے.*.
اس کنونشن میں دفاع پاکستان کونسل میں شامل جماعتوں کے سربراہان و نمائندگان نے قائد اھلسنت علامہ محمد احمد لدھیانوی صاحب حفظہ اللہ پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے قائد اھلسنت کے ملکی سلامتی کے لیئے کردار کو سراہا ھے..
باقی مذمتی بیان بالکل اسی طرح ھے جیسے امریکہ روس پر حملہ کر دے اور پاکستان امریکہ کے اس حملے کی مذمت کرے اسکا مطلب ہر گز یہ نہ ھے کہ پاکستان نے روس میں برپا ہونے والے سوشلسٹ انقلاب کو تسلیم کر لیا اور پاکستان نے اپنی نظر و فکر میں کوئی تبدیلی لائی ہے. .
اس عظیم الشان دفاع پاکستان کنونشن کے انتظامات کی ذمہ داری مولانا عبدالرحمن معاویہ صاحب جنرل سیکرٹری سنی علماء کونسل اسلام آباد اور مولانا یونس قاسمی صاحب کی تھی جنہوں نے اچھا اور خوبصورت انتظام کیا ھے جس پر کنونشن کے اختتام پر دونوں حضرات کو قائد اھلسنت علامہ محمد احمد لدھیانوی صاحب اور جرنیل اھلسنت علامہ غازی اورنگزیب فاروقی صاحب نے مبارک باد پیش کی.
اجلاس کا عنوان استحکام پاکستان کنونشن تھا جس میں مشرق وسطیٰ کے حالات اور ھماری ذمہ داریاں کے عنوان پر بات کرنا تھی اس کنونشن میں دفاع پاکستان کونسل میں شامل جماعتوں کے سربراہان میں سے مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کے قائم مقام امیر علامہ ڈاکٹر محمد علی تراب صاحب ،مفتی حبیب الرحمن درخواستی صاحب مرکزی راھنما جمعیت علماء اسلام، علامہ عتیق الرحمن شاہ محمدی صاحب راہنما مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان نے حرمین شریفین کے دفاع اور ایران کی عرب ممالک پر جارحیت کے حوالے سے جو خطاب فرمائے یقیناً وہ تاریخ کا اھم حصہ رھیں گے.*.
اس عظیم الشان استحکام پاکستان کنونشن کی کامیابی کے لیئے قائد اھلسنت علامہ محمد احمد لدھیانوی صاحب حفظہ اللہ سفر عمرہ سے واپسی پر اپنے گھر کی بجائے اسلام آباد تشریف لائے حالانکہ آپ فیصل آباد ایئرپورٹ پر اترے ہیں اور فیصل آباد سے کمالیہ مختصر سفر ھے گھر جانے کے بجائے وہ استحکام پاکستان کی فکر لے کر اسلام آباد پہنچے یہ کردار بھی تاریخ کا حصہ رھے گا.
قومی سطح کے اس عظیم الشان استحکام پاکستان کنونشن کی صدارت قائد تحریک، مشن امیر عزیمت شھید کے پاسبان، محافظ پاکستان ،سفیر امن ،امیر سواد اھلسنت علامہ محمد احمد لدھیانوی صاحب حفظہ اللہ نے فرمائی، یاد رھے کہ 9 مئی واقعات کے رد عمل میں اسلام آباد ہوٹل اسلام آباد میں ھونے والے عظیم الشان استحکام پاکستان کنونشن میں شھید اسلام مولانا سمیع الحق شھید کے فرزند حضرت مولانا حامد الحق حقانی شھید کی موجودگی میں بھی پریس بریفنگ اور مؤثر آواز سے اعلامیہ قائد اھلسنت علامہ محمد احمد لدھیانوی صاحب حفظہ اللہ نے ہی پیش کیا تھا. اللہ تعالیٰ نے زندگی دی تو میں آنے والے چند دنوں میں ایران کے حرمین شریفین کے خلاف عزائم، انڈیا کے اکھنڈ بھارت کے ناپاک منصوبہ اور گریٹر اسرائیل کے پلان پر جہاں قلم اٹھاؤں گا وھاں قائد اھلسنت علامہ محمد احمد لدھیانوی صاحب حفظہ اللہ کی مشن امیر عزیمت شھید کے ساتھ ساتھ دفاع پاکستان کونسل کے لیئے خدمات پر جامع مضمون لکھوں گا.*.
اس عظیم الشان استحکام پاکستان کنونشن کی سوشل میڈیا کوریج نجوم الھدیٰ میڈیا سیل اور الحیدری میڈیا ٹیم نے نہایت مہارت کے ساتھ کی ہے اور بہترین ایڈیٹنگ کے ساتھ مواد کو سوشل میڈیا کی زینت بنایا میڈیا ٹیموں کے ذمہ داران سے کنونشن کے آغاز سے قبل یاسر قاسمی صاحب نے راقم الحروف سے ملاقات کرائی اور پروگرام کی حساسیت کو مد نظر رکھتے ہوئے انہیں راقم نے بریف کیا.
اخبارات میں پریس ریلیز مولانا یاسر قاسمی صاحب ترجمان سنی علماء کونسل اسلام آباد نے بھیجی ہے. اور ان شاء اللہ اپنی ہمت و بساط کے مطابق آنے والے ایک دو روز میں اس کنونشن پر میرا مضمون اخبارات میں رنگین صفحات کی صورت میں شائع ہو گا. .
ٹی وی چینلز بھی تشریف لائے تھے لیکن میری معلومات کے مطابق کسی چینل نے اس پروگرام کو اسوقت تک نشر نہیں کیا حالانکہ بہت اہم پروگرام تھا.*.
قائد اھلسنت علامہ محمد احمد لدھیانوی صاحب حفظہ اللہ نے اعلان فرمایا کہ دس اپریل بروز جمعہ المبارک ملک بھر میں دفاع پاکستان کونسل کے زیر اہتمام ،،،، پاکستان زندہ باد ریلیاں نکالی جائیں گی جسکی تمام راہنماؤں نے تائید کی. دعا کے ساتھ کنونشن اختتام پذیر ہوا.
آخر میں اپنی جماعت کے شعبہ نشر و اشاعت کے ذمہ داران و ممبران سے کہوں گا کہ آپ نے ایرانی شیطنت کو تنہاء رھنے کے باوجود جس دبنگ انداز سے بے نقاب کیا ھے اس پہ آپ لائق تحسین ہیں، آگے بھی آپ استقامت کے ساتھ جماعت کے بیانیہ کو مدنظر رکھتے ہوئے قدم بڑھائیں، اللہ تعالیٰ ہمارا حامی و ناصر ہو گا.اللہ تعالیٰ ھمارے ملک کو شرور و فتن سے محفوظ رکھے آمین ثم آمین۔
Sunni Ulema Council Pakistan
Also Read
