وطــن عزیز میں ایران پر حملوں کے بعد احتجاج کے نام پر فرقہ وارانہ نعرے لگانا، فتنہ و فساد پھیلانا اور قومی املاک کو نقصان پہنچانا نہایت قابلِ مذمت ہے۔ ریاستی ادارے اس کی فوری نوٹس لیں۔
![]() |
| مولانا مفتی عبدالوحید جلالی مرکزی ترجمانسنی علماء کونسل پاکستان |
ایرانی سپریم لیڈر کی ہلاکت کے بعد پاکستان میں احتجاج کے نام پر شروع ہونے والے فسادات کے دوران کراچی میں امریکی کونسل ہاؤس کو نذرِ آتش کیا گیا اور ملک بھر میں سرکاری و عوامی املاک کو نقصان پہنچایا گیا۔ مظاہروں کے دوران سیکیورٹی اداروں کے ساتھ جھڑپیں اور ان کے خلاف نعرے بازی بھی دیکھنے میں آئی، جو نہایت افسوسناک اور ناقابلِ قبول ہیں۔
احتجاج یا دہشت گردی؟
زیرِ نظر تصویر میں ایک شخص بلٹ پروف جیکٹ پہنے نظر آ رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر مقصد صرف احتجاج ہے فساد نہیں تو احتجاجی مظاہرے میں جنگی ساز و سامان کا کیا کام؟
عوام کی جان و مال کو خطرے میں ڈالنے کی اجازت کسی کو نہیں دی جا سکتی۔
سیکیورٹی ادارے دہشت گردوں کے خلاف بھرپور کارروائی کریں اور شہر میں امن و امان کو یقینی بنائیں۔
سـنی عـلماء کـونـسل پـاکـستان کے تازہ ترین نیوز پروگرامز، قائدین کے بیانات اور اہم اپڈیٹس دیکھنے کے لیے واٹس اپ پر آفیشل چینل فالو کریں۔
Also Read

