21 رمضان المبارک اسلامی تاریخ کا نہایت اہم اور دردناک دن ہے۔ اس دن امیرالمومنین، شیرِ خدا حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جامِ شہادت نوش فرمایا۔ آپ کی پوری زندگی اسلام کی خدمت، شجاعت، علم اور عدل و انصاف کی روشن مثال ہے۔
حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسولِ اکرم ﷺ کے چچا زاد بھائی اور داماد تھے۔ آپ بچپن ہی میں ایمان لائے اور ابتدائی مسلمانوں میں شامل تھے۔ حضور اکرم ﷺ کی صحبت نے آپ کی شخصیت کو علم، تقویٰ اور بہادری کا عظیم نمونہ بنا دیا۔
حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت کے بعد مسلمانوں نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو خلیفہ منتخب کیا۔ آپ نے تقریباً پانچ سال تک منصبِ خلافت سنبھالا اور اس دوران عدل و انصاف اور اسلامی اصولوں کے مطابق حکومت کی۔ آپ کی خلافت کے دور میں کئی آزمائشیں آئیں، لیکن آپ نے ہمیشہ حق اور انصاف کا راستہ اختیار کیا۔
17 رمضان المبارک کو فجر کی نماز کے وقت ایک خارجی شخص عبدالرحمن بن ملجم نے آپ پر قاتلانہ حملہ کیا۔ اس حملے میں آپ شدید زخمی ہوگئے اور تین دن تک زخموں کی تکلیف برداشت کرنے کے بعد 21 رمضان المبارک کو آپ نے شہادت پائی۔
حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی سیرت مسلمانوں کے لیے رہنمائی کا عظیم سرچشمہ ہے۔ آپ کی زندگی علم، بہادری، صبر اور عدل کی بہترین مثال ہے۔ تاریخِ اسلام میں آپ کا کردار ہمیشہ ایک روشن باب کی حیثیت رکھتا ہے۔
آج بھی امتِ مسلمہ کے لیے ضروری ہے کہ وہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی سیرت و کردار سے سبق حاصل کرے اور اپنے معاشرے میں عدل، اخوت اور حق کی پاسداری کو فروغ دے۔
21 رمضان المبارک — یومِ شہادت امیرالمومنین حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ
خصوصی اشاعت: مفتی عبدالوحید جلالی، مرکزی ترجمان سنی علماء کونسل پاکستان


