![]() |
| 10 رمضان المبارک یوم وفات ام المومنین سیدۃ خدیجہ الکبری رضی اللہ عنہا |
سیرت سیدہ خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا
مرکزی ترجمان سنی علماء کونسل پاکستان مفتی عبدالوحید جلالی کے قلم سے
وفاؤں کی پیکر ام المومنین سیدۃ خدیجہ الکبری رضی اللہ عنھا
پیکر صدق و وفا سیدہ خدیجہ الکبری رضی اللہ عنھا کا نام نامی اسم گرامی خدیجہ تھا کنیت ام ہند اور لقب طاہرہ تھا سلسلہ نسب یوں ہے کہ خدیجہ بنت خویلد بن اسد بن عبدالعزی بن قصی قصی پر پہنچ کر ان کا خاندان جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان سے مل جاتا ہے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی والدہ محترمہ کا اسم گرامی فاطمہ بنت زائدہ تھا سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے والد گرامی القدر حرب الفجار میں مارے گئے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا اپنے والد اور صاحب کا شوہر عتیق بن عابد مخزومی کے مرنے کے بعد سخت پریشانی سے ان کی زندگی گزر رہی تھی ذریعہ معاش تجارت تھی جس کا کوئی نگران نہیں تھا تا ہم اپنے قرابت داروں کو معاوضہ دے کر مال تجارت بھیجتی تھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں امین کے لقب سے معروف و مشہور تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حسن معاملات، راست بازی صدق و دیانت اور پاکیزہ اخلاق کا چرچہ عام تھا حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے رجوع فرماتے ہوئے عرض کیا کہ اگر میرا تجارتی مال لے کر ملک شام جائیں تو جو معاوضہ باقی لوگوں کو دیتی ہوں اس کا مضاعف اپ کو دے دوں گی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبول فرما لیا اور مال تجارت لے کر حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہما کے غلام میسر کے ہمارا بصرہ تشریف لے گئے اس سال کا تجارتی منافعہ گزشتہ سالوں کے نفع سے زیادہ تھا سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی نیک نامی کی بدولت مکہ کے ہرشریف النفس کی خواہش تھی ان کے ساتھ نکاح کی مگر خلاق عالم نے یہ انتخاب کسی اور کے لیے رکھا تھا چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مال تجارت لے کر شام سے واپس ائے تو حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے شادی کا پیغام بھیجا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبول فرما لیا اور شادی کی تاریخ مقرر ہو گئی متعین شدہ تاریخ پر جناب ابو طالب اور تمام روسائے خاندان جن میں حضرت حمزہ بھی تھے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنھا کے گھر آئے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے اپنے خاندان کے چند بزرگوں کو جمع کیا جناب ابو طالب نے نکاح کا خطبہ پڑھایا حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے چچا عمر بن اسد کے مشورے کے ساتھ 500 طلائی درہم مہر مقرر کیا حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا حرم نبوت میں آ کر ام المومنین کے شرف سے ممتاز ہوئیں، نکاح کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر مبارک 25 برس تھی اور حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا 40 برس کی تھیں یہ بعثت سے 15 برس پہلے کا واقعہ ہے 15 سال بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہوئی فرائض نبوت کو ادا کرنا چاہا تو خواتین میں سب سے پہلے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک پر اسلام قبول کیا جب غار حرا میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر پہلی وحی نازل ہوئی تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گھر تشریف لائے جس واقعے کو امام بخاری نے باب کیف کان بدء الوحی الی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں تفصیل سے ذکر فرمایا ہے بہرحال سید خدیجہ رضی اللہ عنہا نے جن تاریخی الفاظ کے ساتھ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حوصلہ افزائی فرمائی یہ وہ پوری امت کے لیے نمونہ ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پریشان نہ ہوں خدا آپ کا ساتھ نہیں چھوڑے گا کیونکہ اپ صلہ رحمی کرتے ہیں بے کسوں اور فقیروں کے معاون رہتے ہیں مہمان نوازی کرتے ہیں مصائب میں حق کی حمایت کرتے ہیں قارئین کرام حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا وہ مقدس خاتون ہیں جنہوں نے اسلام سے پہلے ہی بت پرستی ترک کر دی تھی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی ذات سے جو تقویت ملی وہ سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک ایک صفحہ سے نمایاں ہے ابن ہشام میں ہے کہ اسلام کے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی مشیر تھیں آپ رضی اللہ عنہا کے بطن سے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے حضرت قاسم حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہما اور سیدہ زینب رضی اللہ عنہا حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی پیدائش ہوئی حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے مناقب میں بہت سی احادیث مروی ہیں. مسلم شریف میں ہے آپ علیہ السلام نے فرمایا عورتوں میں بہتر مریم بنت عمران پھر عورتوں میں بہتر حضرت خدیجہ بنت خویلد رضی اللہ عنہا ہیں ایک دفعہ جبرائیل امین حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنھا تشریف لائیں تو جبرائیل نے فرمایا ان کو جنت میں ایک ایسا گھر ملنے کی بشارت سنا دیجئے جو موتی کا ہوگا جہاں شور وغل اور محنت و مشقت نہ ہوگی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب لوگوں نے میری تکذیب کی تو سیدہ خدیجہ الکبری رضی اللہ عنھا نے میری تصدیق کی جب لوگ کافر تھے تو وہ اسلام لائیں جب میرا کوئی معین نہیں تھا تو انہوں نے میری مدد کی اور میری اولاد ان سے ہوئی حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بے پناہ محبت تھی باوجود دولت اور ثروت کے خدمت گار رکھنے کے بجائے خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کیا کرتی تھیں، صحیح بخاری میں ہے کہ ایک مرتبہ جبریل امین نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ خدیجہ برتن میں کچھ لا رہی ہیں ان کو میرا اور خدا کا سلام پہنچا دیجئیے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا سے بے انتہا محبت تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی زندگی میں دوسری شادی نہیں کی انکی وفات کے بعد ان کی سہیلیوں کے پاس گوشت بھجواتے تھے اج 10 رمضان المبارک ہم سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی عظمت کو سلام کرتے ہیں اور آج کے روز سنی علماء کونسل پاکستان کے زیر اہتمام ملک کے مختلف مقامات پر قائد اہلسنت علامہ محمد احمد لدھیانوی حفظہ اللہ کی ہدایات کے مطابق عظمت سیدہ خدیجہ الکبری رضی اللہ عنھا کے عنوان سے نشستوں کا اہتمام کیا جائے گا اور سنی علماء کونسل پاکستان کے سوشل میڈیا ایکٹویسٹ سیدہ خدیجہ الکبری رضی اللہ عنھا کی عظمت کے حوالے سے ٹرینڈ چلائیں گے
Also Read
