مقام شہداء اور شہداء ڈے - مفتی عبدالوحید جلالی مرکزی ترجمان سنی علماء کونسل پاکستان

مقام شہداء اور شہداء ڈے 

مفتی عبدالوحید جلالی مرکزی ترجمان سنی علماء کونسل پاکستان


سنی علماء کونسل راولپنڈی ڈویژن کے صدر مفتی تنویر عالم فاروقی حفظہ اللہ کی دعوت پر ٹیکسلا واہ کے ایک خوبصورت پارک میں شھداء تحفظ ناموس صحابہ و اھلبیت کی یاد میں شھداء کے یتیم بچوں کے ساتھ شھداء ڈے کے عنوان سے تقریب میں شرکت کا موقع ملا. میں نے اس نوعیت کی کسی پہلی تقریب میں شرکت کی اس تقریب کی تفصیل میں جانے سے قبل ضروری سمجھتا ہوں کہ شھید کے مقام کے حوالے سے قرآن و سنت کی روشنی میں مختصر مواد قارئین کی نذر کروں.

قارئین کرام

مقامِ شہداء کرام 

انعام یافتہ جماعتوں میں سے تیسری جماعت حضرات شہداء کرام کی ہے، جن پر اللہ تعالیٰ کا خاص انعام ہوتا ہے، جن کی پیروی کا حکمِ ربانی ہے، جن کی رفاقت بحکمِ قرآن بہترین رفاقت ہے، جن کے ناموں کی طویل فہرست ہے، جن کو اللہ تعالیٰ ہی جانتاہے اور کسی کے بس میں نہیں ہے۔ یہ جماعت قیامت تک باقی رہے گی۔ جب سے اسلام اور کفر کا مقابلہ شروع ہوا ہے، اس وقت سے لے کر آج تک شہداء کی جماعت ہی ہے جو اپنی جان، مال سے اسلام کو بچاتی رہی ہے، جن کے خون کی بدولت اسلام پھلتا پھولتا رہا ہے۔ ہمیشہ اُن کے خون سے اسلام ترقی کرتا رہا ہے، ان کا خون ہی ہمیشہ آبیاری کا کام دیتا ہے۔

مسلمانوں کی عزت وعظمت، شان وشوکت کی حفاظت میں شہداء کرام نے بنیادی کردار ادا کیا ہے، نیز ملک وملت کی آبروکی محافظ یہ ہی جماعت رہی ہے۔ شہادت کا جذبہ ایک ایسا جذبہ ہے جو صرف مسلمانوں کو ہی عطاء ہوا ہے، باقی اقوام اس نعمت سے محروم ہیں۔ اس جذبے کے آگے ملتِ کفر ہمیشہ پاش پاش ہوتی رہی ہے۔ دینِ اسلام کی سربلندی کے لیے جو لوگ جاںنثاری کرتے ہیں، ان کا اللہ تعالیٰ اور امام الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں بہت ہی بلند مقام ہے۔ ان کے اس مقامِ عالی کو سمجھنے کے لیے درج ذیل چند آیات واحادیث اوراکابر کے اقوال سے کافی رہنمائی حاصل ہوتی ہے۔ دعاہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین ثم آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم :

۱: ’’وَلَا تَقُوْلُوْا لِمَنْ یُّقْتَلُ فِیْ سَبِیْلِ اللہِ اَمْوَاتٌ ط بَلْ اَحْیَاءٌ وَّلٰکِنْ لَّا تَشْعُرُوْنَ‘‘

 (البقرۃ:۱۵۴)

ترجمہ:’’اور جو لوگ الله کی راہ میں قتل کیے جاتے ہیں ان کی نسبت یوں بھی مت کہو کہ وہ (معمولی مردوں کی طرح) مردے ہیں ، بلکہ وہ تو (ایک ممتاز حیات کے ساتھ) زندہ ہیں، لیکن تم (ان) حواس سے (اس حیات کا) ادر اک نہیں کرسکتے ۔‘‘

تشریح:۔۔۔۔۔ علامہ واحدیؒ ’’أسباب النزول‘‘ میں لکھتے ہیں: ’’یہ آیت بدر میں شہید ہونے والے چودہ (۱۴) مسلمانوں کے بارے میں نازل ہوئی، جن میں سے آٹھ حضرات انصار میں سے تھے اور چھ حضرات مہاجرین میں سے تھے، شہید ہونے والوں کے بارے میں بعض لوگوں نے یوں کہا کہ فلاں مرگیا، اور دنیا کی لذت ونعمت اس سے فوت ہوگئی تو آیتِ بالا نازل ہوئی۔‘‘ (بغوی:ج ۱، ص:۱۳۹) 

اس آیت میں شہداء کرام کے لیے لفظ مردہ استعمال کرنے سے روکا گیا ہے۔

2:’’وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِيْنَ قُتِلُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللهِ اَمْوَاتًا ۭ بَلْ اَحْيَاۗءٌ عِنْدَ رَبِّھِمْ يُرْزَقُوْنَ فَرِحِيْنَ بِمَآ اٰتٰىھُمُ اللهُ مِنْ فَضْلِہٖ ۙ وَيَسْـتَبْشِرُوْنَ بِالَّذِيْنَ لَمْ يَلْحَقُوْا بِھِمْ مِّنْ خَلْفِھِمْ ۙ اَ لَّا خَوْفٌ عَلَيْھِمْ وَلَا ھُمْ يَحْزَنُوْنَ۔‘‘ (آل عمران:۱۶۹)

ترجمہ:’’اور (اے مخاطب) جو لوگ الله کی راہ میں قتل کیے گئے ان کو مردہ مت خیال کر، بلکہ وہ لوگ زندہ ہیں، اپنے پروردگار کے مقرب ہیں، ان کو رزق بھی ملتا ہے ۔وہ خوش ہیں اس چیز سے جو اُن کو الله تعالیٰ نے اپنے فضل سے عطا فرمائی اور جو لوگ ان کے پاس نہیں پہنچے ان سے پیچھے رہ گئے ہیں، ان کی بھی اس حالت پر وہ خوش ہوتے ہیں کہ ان پر بھی کسی طرح کا خوف واقع ہونے والا نہیں اور نہ وہ مغموم ہوںگے۔‘‘

تشریح:۔۔۔۔۔ مندجہ بالا آیات میں شہداء کرام کے درج ذیل فضائل بیان کیے گئے ہیں: ۱:-ان کی ممتاز دائمی حیات ہے۔ 2:- ان کو من جانب اللہ رزق دیا جاتاہے۔ 3:- وہ ہمیشہ خوش وخرم رہیںگے۔ 4:- وہ اپنے جن متعلقین کو دنیا میں چھوڑ گئے تھے، ان کے متعلق بھی ان کو یہ خوشی ہوتی ہے کہ وہ دنیا میں رہ کر نیک عمل اور جہاد میں مصروف رہیں تو ان کو بھی یہاں آکر یہ ہی نعمتیں اور درجاتِ عالیہ ملیںگے۔

اور سدیؒ نے بیان فرمایاہے :’’ شہید کا جو کوئی عزیز، دوست مرنے والا ہوتاہے شہید کو پہلے سے اس کی اطلاع کردی جاتی ہے کہ فلاں شخص اب تمہارے پاس آرہاہے، وہ اس سے ایسا خوش ہوتا ہے، جیسے دنیا میں کسی دور افتادہ دوست سے بعد مدت ملاقات کی خوشی ہوتی ہے۔‘‘ (معارف القرآن:ج۲، ص:۲۳۷)

شانِ نزول: اس آیت کا شانِ نزول امام ابوداؤدؒ نے سنن ابی داؤد (ج۱، ص:۳۴۱) میں صحیح سند کے ساتھ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے، وہ یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے فرمایا کہ: جب واقعۂ احد میں تمہارے بھائی شہید ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے ان کی ارواح کو سبز پرندوں کے جسم میں رکھ کر آزاد کردیا، وہ جنت کی نہروں اور باغات سے اپنا رزق حاصل کرتے ہیں اور پھر ان قندیلوں میں آجاتے ہیں جو اُن کے لیے عرشِ رحمان کے نیچے معلق ہیں، جب ان لوگوں نے اپنی راحت وعیش کی یہ زندگی دیکھی، تو کہنے لگے کہ: ہمارے متعلقین دنیا میں ہمارے مرنے سے غمگین ہیں، کیا کوئی ہمارے حالات کی خبر اُن کو پہنچا سکتا ہے؟ تاکہ وہ ہم پر غم نہ کریں اور وہ بھی جہاد میں کوشش کرتے رہیں؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم تمہاری یہ خبر اُن کو پہنچائے دیتے ہیں، اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ (قرطبی، ج:۴، ص:۲۶۵۔ معارف القرآن، ج:۲، ص:۲۳۷)


3:- حضرت مقدام بن معدیکربؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: ’’شہید کو اللہ پاک کی طرف سے چھ انعامات دیئے جاتے ہیں: 

۱:- قتل ہوتے ہی اس کے گناہ معاف کیے جاتے ہیں (سوائے قرض کے ) 2:اسی وقت اس کو جنت میں اس کا ٹھکانا دکھایا جاتا ہے۔3:- عذابِ قبر اور قیامت کے دن کی چھوٹی بڑی گھبراہٹ سے محفوظ رکھا جائے گا۔4:- اس کے سر پر وقار عزت کا تاج رکھا جائے گا، جس کا ایک یاقوت دنیا ومافیہا سے بہتر ہوگا۔5:- بہتر (۷۲) حوروں سے اس کا نکاح کیا جائے گا۔ 6:- رشتے داروں، اقرباء میں سے ستر (۷۰) افراد کے لیے اس کو شفاعت کا حق دیا جائے گا۔‘‘ (ترمذی:ج۱، ص:۲۹۵)


4:- حضرت سمرۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: آج رات میں نے دو آدمیوں کو خواب میں دیکھا جو مجھے لے کر درخت پر چڑھے اور مجھے ایسے محل میں داخل کیا کہ جو بہت ہی حسین تھا اور بہت ہی عمدہ تھا، اس جیسا محل میں نے کبھی نہیں دیکھا اور مجھے بتایاگیا کہ یہ شہداء کرام کا محل ہے۔ (بخاری: ج۱،ص:۳۹۱)

شھداء کے مقام کے حوالے  سے صرف دو دو مقام قرآن و حدیث کے پیش کیئے ہیں اگر تفصیل میں جائیں تو قرآن و سنت میں اس عنوان پر بہت بڑی تفصیل موجود ہے کئی کتابیں لکھی جا سکتی ہیں.

اب شھداء ڈے کی طرف آتے ہیں. امیر عزیمت شھید کی جماعت کے علماء و قراء اور اہلسنت کارکنان جنہوں نے وطن عزیز پاکستان میں صحابہ و اھلبیت اطہار رضوان اللہ علیہم اجمعین کی عزت و ناموس کے تحفظ کا پرچم بلند کیا اور قانون و آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے اس عظیم مشن کی تکمیل کے لیئے جدوجہد کی اور اس عظیم جدوجہد کی پاداش میں انہیں بدترین دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا. یہ عظیم رجال کار اپنی جانوں کے نذرانے تو  پیش کر گئے مگر انہوں نے تحفظ ناموس صحابہ و اھلبیت کا پرچم ہمیشہ سربلند رکھا ایسے رجال کار کی تعداد تو ہزاروں میں ہے مگر ٹیکسلا واہ میں شھداء ڈے کے موقع پر صرف ان شھداء کی فیملیز اور بچوں کو مدعو کیا گیا تھا جو راولپنڈی و اسلام آباد میں یا راولپنڈی ڈویژن کے اضلاع میں دہشت گردوں کے ہاتھوں شھید ہوئے. بلاشبہ یہ منظر قابل دید تھا اور سنی علماء کونسل راولپنڈی ڈویژن کا یہ عمل قابل رشک اور قابل تقلید بھی ھے. شھداء کے چھوٹے چھوٹے بچوں کے ساتھ ذمہ داران گھل مل گئے ان میں بچوں کے کھلونے اور بچوں کی اشیاء خورد و نوش کو تقسیم کیا گیا، کرکٹ سمیت مختلف کھیل پیش کیئے گئے، میں مضمون نگار کی حیثیت سے بغور تقریب کا مطالعہ کرتا رہا شھداء کے بچوں کے چہروں پر بالکل مایوسی کے اثرات نہیں محسوس کیئے بلکہ شھداء کے بچے جماعت کے ذمہ داران سے مانوس نظر آئے اور خوش نظر آئے جو اس امر پر دال ہے کہ جماعت کا شھداء کے گھرانوں سے رابطہ مضبوط ہے.  جماعت کے شھداء کے بچوں کو اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے تک مکمل معاونت کا اعزاز بھی الحمد للہ ہماری جماعت کو حاصل ہے صرف راولپنڈی اور اسلام آباد کے شھداء کے گھروں میں سے سولہ گھرانوں میں ماہانہ وظائف دیئے جاتے ہیں اور کسی گھر کی طرف سے پورے عرصے میں کوئی شکایت نہیں ہے. اسی طرح راولپنڈی ڈویژن کی جماعت نے اپنی ہمت و بساط کے مطابق چار گھرانوں کو چھت فراہم کی مطلب گھر بنا کر چابیاں ان شھداء کے بچوں کے سپرد کر کے انہیں اپنے ذاتی گھروں کا مالک بنایا. راولپنڈی ڈویژن میں اس عنوان پر شھید تحفظ ناموس صحابہ علامہ مسعود الرحمن عثمانی شھید بہت متحرک رہتے تھے انکے بعد اس حدود میں مفتی تنویر عالم فاروقی صاحب صدر سنی علماء کونسل راولپنڈی ڈویژن اپنی ٹیم کے ہمراہ بہت متحرک ہیں. شھداء ڈے کی روایت ڈالنے والی شخصیت سنی علماء کونسل پاکستان کے مرکزی صدر علامہ غازی اورنگزیب فاروقی صاحب حفظہ اللہ ہیں جنہوں نے کراچی میں شھداء کی فیملیز کے لیئے مثالی کردار ادا کیا ہے. وہ تربیتی پروگرامات میں اور جماعت کے اجلاسوں میں اس بات کا اکثر تذکرہ کیا کرتے تھے کہ میں نے شھداء کے شھادت کے وقت انکے بچوں کو روتے دیکھا ہے میری ہرممکن کوشش یہ ہوتی ہے کہ جیسے میں نے انہیں روتے دیکھا ہے اسی طرح انہیں اپنی آنکھوں سے مسکراتا دیکھوں اور شھداء ڈے کراچی کے موقع پر جب میں شھداء کے بچوں کے چہروں پر مسکراہٹ دیکھتا ہوں تو میرے سارے غم ہلکے ہو جاتے ہیں. میں نے یہ منظر سارا سنی علماء کونسل راولپنڈی ڈویژن کے زیر اہتمام شھداء ڈے کے موقع پر اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے اور اس منظر نے مجھے بہت متاثر بھی کیا ہے. سنی علماء کونسل راولپنڈی ڈویژن کے زیر اہتمام اس عظیم الشان شھداء ڈے کے مہمان خصوصی قائد اھلسنت ،سفیر امن علامہ محمد احمد لدھیانوی صاحب حفظہ اللہ اور علامہ غازی اورنگزیب فاروقی صاحب حفظہ اللہ تھے، حالات خراب ہونے کے باعث قائد اھلسنت علامہ محمد احمد لدھیانوی صاحب حفظہ اللہ تشریف نہ لا سکے، اس تقریب میں سنی علماء کونسل راولپنڈی ڈویژن کی دعوت پر علامہ غازی اورنگزیب فاروقی صاحب حفظہ اللہ صدر سنی علماء کونسل پاکستان، علامہ محمد معاویہ اعظم طارق صاحب سابق ایم پی اے جھنگ. علامہ تصدق حسین کشمیری صاحب صدر سنی علماء کونسل آزاد کشمیر اور راقم الحروف کی شرکت ہوئی، شھداء کے بچوں کے ساتھ مختلف گیمز کے مظاہرے اور ان بچوں کو ہنستا مسکراتا دیکھ کر دلی تسکین ہوئی،مفتی تنویر عالم فاروقی صاحب ،مولانا عبدالرحمن معاویہ صاحب اس تقریب میں بہت متحرک تھے. انکے علاوہ حافظ نصیر احمد صاحب باوجود معذوری کے بھی تشریف لائے، مولانا یعقوب طارق صاحب، مولانا قاری افتخار فاروقی صاحب، قاری اسد عرفان صاحب، اھلسنت ویلفیئر ٹرسٹ کراچی کے چیئرمین پروفیسر سیف الرحمن عباسی صاحب ،مفتی حیدر علی صاحب، سنی علماء کونسل راولپنڈی کے ترجمان مفتی بلال عمر صاحب مفتی نشاد کشمیری ،مولانا اقبال صدیقی صاحب، مولانا ناصر عباسی صاحب ، بھائی عبداللہ صاحب، مولانا بشیر معاویہ صاحب ،حافظ عمر شھید کے والد قاری شاہد شریف صاحب اور دیگر ذمہ داران نے بھی تقریب میں خوبصورت رول دیا. اسیر ناموس صحابہ حافظ نواز صاحب کی چونکہ پہلے روز ہی شادی ہوئی تھی اور وہ بھی فیملی سمیت اس تقریب میں شریک ہوئے انکا یہ جذبہ و عمل بھی قابل تحسین و تقلید ھے. مولانا معاویہ اعظم طارق صاحب چونکہ ان امور میں بہت ماہر ہیں انہوں نے ابتداء میں بچوں کی دو ٹیمیں بنائیں ایک ٹیم کا کیپٹن علی حیدر کو اور دوسری ٹیم کا کیپٹن عبدالرحمن کو بنایا ان دونوں ٹیموں کے درمیان بہت خوبصورت میچ ہوا، بچوں کے چہروں پر مسکراہٹ لانے کے لیئے علامہ غازی اورنگزیب فاروقی صاحب حفظہ اللہ ،مولانا معاویہ اعظم طارق صاحب اور راقم الحروف نے بھی ہلکی پھلکی بولنگ و  بیٹنگ کی. کھیل کے مظاہروں سے فارغ ہو کر پارک میں اجتماعی تقریب ہوئی ،شھداء کے ورثاء میں ھدیے تقسیم کیئے گئے اور تلاوت سے تقریب کا آغاز ہوا. تلاوت کے فرائض معاویہ بن مفتی مظہر نے سرانجام دیئے، اسٹیج سیکرٹری کے فرائض مفتی تنویر عالم فاروقی صاحب نے سرانجام دیئے، نعتیہ کلام کراچی سے مولانا اورنگزیب فاروقی صاحب کے شاگرد اور رفیق سفر مولانا سعید الرحمان حنفی صاحب نے پیش کیا ،اور مولانا اسامہ بن مولانا حبیب الرحمن صدیقی شھید نے کلام پیش کر کے محفل کو لوٹ لیا ایسی تاثیر تھی کلام میں کہ جو سب کے دلوں پر اثر کر گئ. اثر ہو بھی کیوں نہ کہ کلام پڑھنے والے کا والد اور دادا دونوں شھید ہیں. راقم الحروف نے مختصر گفتگو کرتے ہوئے اس عظیم الشان تقریب کے انعقاد پر سنی علماء کونسل راولپنڈی ڈویژن کے صدر مفتی تنویر عالم فاروقی صاحب ،مولانا عبدالرحمن معاویہ صاحب اور انکی ٹیم کو مبارک باد پیش کی. شھداء تحفظ ناموس صحابہ کو انکی لازوال قربانیوں پر انہیں خراج تحسین پیش کیا. شھداء کے گھرانوں کو صبر و ثبات پر سلام عقیدت پیش کیا ،اور اس شعر کے ساتھ گفتگو کا اختتام کیا

ائے شھیدوں کی روحوں دعا دو ہمیں

اور تم کو خراج وفا دیں گے ہم

صحابہ کرام کی آبرو کے لیئے آخری قطرہ خون بہا دینگے ہم

تقریب سے علامہ تصدق حسین کشمیری صاحب اور علامہ معاویہ اعظم طارق صاحب جو خود شھید کے بیٹے ہیں نے پر مغز گفتگو کی ،تقریب سے بحثیت مہمان خصوصی علامہ غازی اورنگزیب فاروقی صاحب حفظہ اللہ نے مفصل اور مدلل خطاب فرمایا میں اس خطاب کو الہامی ہی کہہ سکتا ہوں پراثر خطاب تھا دل کی کایہ پلٹ دینے والے اس خطاب نے ایک دفعہ سب کو آبدیدہ ہی کر دیا اور پھر ایسی بشارتیں سنائیں کہ سب مسکرا بھی دیئے. دعا کے ساتھ تقریب اختتام کو پہنچی،ذمہ داران نے تقریب کے شرکاء کے لیئے پرتکلف کھانے کا اہتمام کر رکھا تھا، میں آخر میں پوری جماعت کے ذمہ داران و کارکنان کو اس بات پر مبارکباد دیتا ہوں کہ مشکل ترین حالات میں بھی آپ اپنے شھداء کو نہیں بھولے اور یاد رکھنا کہ شھداء ہمارے محسن ہیں جو قومیں اپنے محسنوں کو یاد رکھتی ہیں وہ ترقی کرتی ہیں آگے بڑھتی ھیں اور کامیابی انکے قدم بوسی کرتی ہے. ناقدین ہر جگہ ہوتے ہیں مگر ہمیں اپنی جماعت کی قیادت پر مکمل اعتماد سے آگے بڑھنا ہے. ہماری جماعت کی قیادت جتنا اپنے کارکن کا خیال رکھتی ہے شاید ہی اسکی کہیں مثال آپ کو مل سکے. علامہ محمد احمد لدھیانوی صاحب حفظہ اللہ نے مشکل ترین دور میں اسیروں کی رہائی اور انکے گھروں کی آبادکاری کے لیئے کلیدی کردار ادا کیا ہے شھداء ہوں یا اسیر انکے گھرانوں کا خیال رکھنا ہمارا اولین فریضہ ہے. اس عظیم الشان تقریب کے میڈیا کوریج کے فرائض سنی علماء کونسل راولپنڈی ڈویژن کے آفیشل میڈیا سیل نجوم الھدیٰ میڈیا ٹیم نے بہت خوبصورت انداز سے جدید کیمروں اور ڈرونز کے ذریعے سرانجام دیئے. پورے منظر نامہ میڈیا ٹیم نے بہترین انداز سے کور کیا. اللہ تعالیٰ سب کی حفاظت فرمائے آمین

مفتی عبدالوحید جلالی مرکزی ترجمان سنی علماء کونسل پاکستان

یہ خبر بھی پڑھیں:

قلعہ کہنہ قاسم باغ اسٹیڈیم ملتان میں مرکزی ترجمان مفتی عبدالوحید جلالی قراردادیں پیش کرتے ہوئے - سنی علماء کونسل پاکستان


مختصر ڈاکومنٹری: مفتی عبدالوحید جلالی – مرکزی ترجمان سنی علماء کونسل پاکستان


مفتی عبدالوحید جلالی صاحب کے دیگر کالمز پرھنے کے لیئے کلک کریں


Also Read